پناہ گزینوں کا عالمی دن اور وطن سے دُور کروڑوں انسانوں کی بے بسی

تازہ ترین

تازہ ترین

پناہ گزینوں کا عالمی دن اور وطن سے دُور کروڑوں انسانوں کی بے بسی
پناہ گزینوں کا عالمی دن اور وطن سے دُور کروڑوں انسانوں کی بے بسی

وطنِ عزیز پاکستان سمیت دُنیا بھر میں منائے جانے والے پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقعے پر اپنے وطن سے دور دیارِ غیر میں موجود کروڑوں انسانوں کی بے بسی عالمِ انسانیت کیلئے سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پناہ گزین کون لوگ ہیں اور یہ وطن سے دور دیارِ غیر میں دربدر کیوں ہیں؟ ہم پناہ گزینوں کو پناہ گزین کے علاوہ کوئی اور نام کیوں نہیں دیتے؟ اور یہ لوگ اپنا ملک چھوڑ کر دوسروں پر انحصار کیوں کرتے ہیں جبکہ دیارِ غیر میں بعض اوقات انہیں انسانیت سوز سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

پناہ گزین کون ؟ کیوں اور کیسے؟

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر کے 27 کروڑ 20 لاکھ افراد پناہ گزین بن کر دیارِ غیر میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ پناہ گزینوں کو پناہ گزین اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ کسی اور ملک میں پناہ لے کر رہتے ہیں۔ نئے ملک میں انہیں زیادہ تر کیسز میں شہریت  جبکہ متعدد کیسز میں بنیادی انسانی حقوق بھی نہیں دئیے جاتے۔ 

مملکتِ خداداد پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں پہلے روس نے جنگ چھیڑی، پھر امریکا آگیا جو اب کم و بیش 18 سے 20 سال بعد یہاں سے بوریا بستر سمیٹ کر جارہا ہے لیکن اس نے اپنے پیچھے اتنی تباہی و بربادی چھوڑی ہے کہ افغانستان کو ایک پسماندہ ملک سے ترقی پذیر ملک بننے میں بھی عشروں تک انتظار کرنا ہوگا۔

افغانستان سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین پاکستان آئے اور پاکستان نے انہیں پناہ گزین کے طور پر قبول کیا۔ حکومتِ پاکستان کے مطابق وطنِ عزیز پناہ گزینوں کو اپنے دامن میں جگہ دینے والا دنیا کا پہلا جبکہ اقوامِ متحدہ کے مطابق دوسرا بڑا ملک ہے۔

پناہ گزینوں کا عالمی دن

اقوامِ متحدہ کے تحت پناہ گزینوں کا عالمی دن بعد میں منایا گیا۔ سب سے پہلے عالمی دن منانے کا خیال فلپائنی مہاجرین کے ساتھ ساتھ دیگر براعظم ایشیاء سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی تنظیموں میں پیدا ہواجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سب سے پہلا پناہ گزینوں کاعالمی دن 1997ء میں منایا گیا جس کا اقوامِ متحدہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

جنرل اسمبلی نے 4 دسمبر 2000ء کو اقوامِ متحدہ کے تحت یہ قرارداد منظور کی کہ عالمی ادارے اقوامِ متحدہ کے تحت پناہ گزینوں کا عالمی دن ہر سال دنیا بھر کے ممبر ممالک منائیں گے اور اس موقعے پر پناہ گزینوں کے ساتھ انسانی ہمدردی کا اظہار کیا جائے گا اور ان کی زندگیاں آسان کرنے کیلئے مختلف طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ 

پناہ گزینی کے ذمہ دار ممالک 

افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں امریکا اور روس افغان عوام کی ملک چھوڑ کر پاکستان آمد کا باعث بنے جبکہ بھارت نے کشمیر میں اگست 2019ء کے دوران متنازعہ شہریت کا قانون نافذ کردیا جس کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ یہ قانون پناہ گزینوں کے مسائل کو بڑھائے گا۔

غور کیا جائے تو لوگ کشمیر چھوڑ کر سب سے پہلے جس ملک کا رخ کرنا پسند کریں گے وہ پاکستان ہوگا کیونکہ پاکستانی عوام مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ یہی فراخدلی پاکستان نے افغان بھائیوں کیلئے بھی دکھائی جس کا نتیجہ لاکھوں مہاجرین کی پاکستان آمد کی صورت میں نکلا۔

مقبوضہ فلسطین پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوئے اور اپنا وطن چھوڑ کر قریبی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے جس سے پناہ گزینوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔ یہی صورتحال افریقی ممالک، عراق اور شام میں پیش آئی جہاں امریکا سمیت دیگر ممالک کی مداخلت یا خانہ جنگیوں کے باعث عوام وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور پناہ گزین بن گئے۔

گزشتہ ماہ ملائشیاء میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے نافذ لاک ڈاؤن کے دوران کم و بیش 1 ہزار 400 افراد گرفتار کر لیے گئے کیونکہ وہ ملک میں غیر قانونی طور پر پناہ گزین بن کر رہ رہے تھے۔ گرفتار کیے گئے افراد کا تعلق پاکستان، بھارت، انڈونیشیاء، بنگلہ دیش اور میانمار سے تھا۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ صرف خانہ جنگی یا دیگر ممالک کی محاذ آرائی ہی ملک چھوڑ کر جانے کا سبب نہیں بنتی بلکہ لوگ پناہ گزین اس لیے بھی بنتے ہیں کہ روزگار حاصل کیا جائے یا پھر معیارِ زندگی کو عیش و عشرت کی خاطر بلند کیا جائے۔ پناہ گزینی کے ذمہ دار ممالک امریکا، روس، بھارت، اسرائیل اور دیگر ممالک ضرور ہیں، لیکن انسان کی اپنی خواہشات بھی پناہ گزینی پر مجبور کرسکتی ہیں۔ 

دن منانے کا مقصد

مملکتِ خداداد پاکستان میں کم و بیش 25 لاکھ افغان پناہ گزین رہائش پذیر ہیں جن کی خوراک، رہائش اور دیگر سہولیات کی ذمہ داری ریاستِ پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تحت یہ دن منانے کا مقصد عوام الناس میں پناہ گزینوں کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔

شعور اجاگر کرنے سے عوام میں پناہ گزینوں کے بارے میں احساسِ ذمہ داری اجاگر ہوگا کیونکہ پناہ گزین بلا شبہ دوسرے ممالک سے آئے ہوئے زیادہ تر مجبور اور مفلوک الحال افراد ہوتے ہیں جن کی مددکرنا، ان کے ساتھ تعاون اور ہر ممکن مدد ہر ذمہ دار شہری اپنا فرض سمجھتا ہے۔

انسانی ہمدردی کے ناطے ہمارے فرائض

دنیا کی کوئی بھی ریاست اپنے شہریوں پر پناہ گزینوں کی مدد کو فرض قرار نہیں دیتی کیونکہ ریاست کے نزدیک پناہ گزین غیر قانونی شہری ہوتے ہیں جن کی مدد انسانی ہمدردی کے ناطے کی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب پناہ گزین معاشی مشکلات کے باعث غیر قانونی عوامل اور بعض اوقات جرائم میں ملوث ہوتے ہیں، لہٰذا پناہ گزینوں کی امداد انسانی ہمدردی کے تحت ضرور کی جاسکتی ہے، تاہم اس موقعے پر شہریوں کو چاہئے کہ حفظِ ماتقدم کو بھی ملحوظِ خاطر رکھیں۔

پناہ گزینوں کو درپیش مسائل میں غیر انسانی سلوک، رہائش سے محرومی، خوراک کی کمی اور ظلم و تشدد شامل ہیں جن میں سے ہر ایک مسئلے کا حل عوام کے پاس نہیں ہوتا، اس لیے عالمی برادری کو چاہئے کہ بین الاقوامی سطح پر پناہ گزینوں کی امداد کیلئے مکینزم ترتیب دے جس کے تحت عوام الناس ان کی مدد کرسکیں۔ 

Related Posts