صنعتکاروں کی وزیراعلیٰ سندھ سے پرانے صنعتی زونزکو تباہی سے بچانے کی اپیل

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistani industry recovering: Mian Zahid Hussain

کراچی: سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلیمان چاؤلہ نے وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے سندھ میں 2نئے اکنامک زونزکی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے مگر ساتھ ہی سندھ حکومت کی توجہ پہلے سے موجود صنعتی زونزکی تباہ حال صورتحال پر مبذول کرواتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نئے صنعتی زون کے قیام سے پہلے پرانے صنعتی زونز کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے تاکہ صنعتوں کو فروغ حاصل ہو۔

انہوں نے پہلے سے موجود پرانے صنعتی زونزکو تباہی سے بچانے کے اقدامات نہ کرنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ صنعتکار برادری نئے صنعتی زونز کی مخالف نہیں مگرپرانے صنعتی زونز کو یکسر نظراندازکرنے پر انہیں شدیدتحفظات ہیں۔

سلیمان چاؤلہ نے کہاکہ کراچی ملک کا قتصادی مرکز ہے جونہ صرف ملکی خزانے میں بھی 70فیصد سے زائد ریونیوکا حصہ دارہے اور90فیصد سندھ کا ریونیو کراچی سے ملتا ہے نیز ملک بھرسے آنے والے لوگوں کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے اس کے باوجود کراچی کو بری طرح نظرانداز کرنا تشویشناک امرہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کا نئے صنعتی زونز بنانا خوش آئند ہے مگر حکومت کو اس بات کابھی جائزہ لینا چاہیے کہ پرانے صنعتی زونزکس حال میں ہیں جو کہ انتہائی بری حالت میں ہیں۔ کراچی کے صنعتی زونز کا انفرااسٹرکچر بالکل تباہ ہوچکا ہے ۔

پاکستان کے پہلے صنعتی زون سائٹ صنعتی ایریامیں تو روڈ نیٹ ورک بالکل تباہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے فیکٹریوں تک جانا بھی محال ہے جوکہ صنعتوں کو خام مال کی فراہمی اور برآمدی مال کی بندرگاہ تک ترسیل بھی مشکلات کا باعث ہے جس پر بار بار توجہ دلانے کے باوجود کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے سائٹ کی صنعتوں کی حالت بہتر بنانے کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ سندھ حکومت کو اس حوالے سے ایک پلان بھی بنا کردیا گیا تھا اور ایک ارب روپے گرانٹ کی درخواست کی گئی تھی جو منظور کی جائے تاکہ سڑکوں کی حالت بہتر بنائی جاسکے کیونکہ انفرااسٹرکچر کا اتنا زیادہ برا حال ہے کہ ہم غیر ملکی خریداری کوفیکٹری نہیں لاسکتے۔

سڑکوں پر آئے دن ٹریلر الٹ جاتے ہیں جبکہ گڑھوں کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کاکہنا ہے کہ سٹرکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے گاڑیاں آہستہ چلتی ہیں جس کا جرائم پیشہ افراد فائدہ اٹھاتے ہوئے باآسانی لوٹ کرفرار ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے بھی وزیراعلیٰ سندھ سے اس حوالے سے بات کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔صدر سائٹ ایسوسی ایشن سوال اٹھایا کہ پرانے صنعتی زونز میں انفراسٹرکچر کی حالت بہتر نہ بنانے کا کیا مطلب لیا جائے۔

کہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ صنعتکارپرانے صنعتی زونز میں فیکٹریاں بند کرکے نئے خصوصی اکنامک زونزمیں اپنی صنعتیں منتقل کرلیں جو کہ کسی بھی صورت ملک کے معاشی مفاد میں نہیں۔

انہوں نے کہاکہ صنعتوں کو نہ بجلی مل رہی ہے اور نہ گیس، حتیٰ کہ پانی بھی نہیں مل رہا۔ان حالات میں بھی کراچی کے صنعتکار تمام تر دشواریوں کے باوجود پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ملکی اقتصادی طور پر مستحکم ہو اور ملکی برآمدات کو فروغ حاصل ہوسکے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ وہ پرانے صنعتی زونز کی حالت زارکا نوٹس لیں اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ صنعتوں کو ضرورت کے مطابق بلاتعطل بجلی،گیس اور پانی کی فراہمی کی ہدایات جاری کریں۔

مزید پڑھیں:صنعتوں کی گیس کے الیکٹرک کو دینے کا فیصلہ قبول نہیں،حکومت نظرثانی کرے، سلیمان چاؤلہ

سائٹ لمیٹڈ میں اصلاحات لائی جائیں اور سرپرپلس ملازمین کو سرپلس پول میں رکھا جائے تاکہ سائٹ کے فنڈز اانفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے استعمال کیے جاسکیں اور پیداواری سرگرمیاں بلارکاوٹ جاری رکھی جاسکیں جس سے برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل میں مددملے گی۔

Related Posts