ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی حکام کی کرپشن ظفر مرزاء کے استعفے کا سبب بنی

تازہ ترین

تازہ ترین

Corruption of Drug Regulatory Authority officials led to the resignation of Zafar Mirza

اسلام آباد :ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی حکام کی بے پناہ کرپشن نے عامر کیانی کے بعد ظفر مرزاء کو بدنام کیا، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام کے متعلق کوئی بھی کیس منطقی انجام تک نہیں پہنچتا،مافیاء کے مضبوط پنجے ظفر مرزاء نے استعفیٰ دیا نہیں طلب کیا گیا،وزیر اعظم آفس کے اسٹاف نے شعبہ سے وابستہ شخصیت سے بریفنگ لی۔

انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی صحت ڈاکٹرظفر مرزاء نے استعفیٰ دیا نہیں بلکہ ان کو مستعفی ہونے کا کہا گیا تھا۔استعفیٰ سے چار روز قبل وزیر اعظم آفس کے اسٹاف نے شعبہ میڈیسن سے وابستہ ایک اہم ترین شخصیت سے چار گھنٹے بریفنگ لی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے معاملات پر آفس کے اسٹاف نے وزیر اعظم کو بریف کیا ۔

ان تمام معلومات کی روشنی میں وزیر اعظم عمران خان نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان میں اس ہوشربا کرپشن بدعنوانی پر انتہائی برہمی کا اظہار کیا،وہیں وزیر اعظم نے وزارت صحت کے بیوروکریٹس پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا اور اس امر پر حیرانگی کا اظہار کیا جب ان کو بتایا گیا کہ بہت سارے معاملات کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ سب اچھا ہے لیکن اصل صورت حال بالکل مختلف ہوتی ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی حکام کی ہوشرباء کرپشن کی کہانیاں وزیر اعظم کیسامنے پیش کی گئیں تو انہوں نے وزارت صحت کے حکام کواس پورے عمل کا قصور وار قرار دیا اور فوری طور پر مشیر برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزاء سے استعفیٰ طلب کیا۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے اس امر پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے معاملات اس حد تک خراب ہیں اور کوئی اس ادارے کو پوچھنے والا نہیں۔

وزیر اعظم کو ان کے سٹاف نے بریفنگ میں بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے کئی افسران کیخلاف مختلف عدالتوں،نیب اور ایف آئی اے میں موجود ہیں لیکن حکام اپنے اثر ورسوخ کی بنا ء پر ہرجگہ سے ریلیف حاصل کرلیتے ہیں۔

اسٹاف نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے افسران کے فارما انڈسٹری سے براہ راست تعلق اور روابط کے متعلق بھی وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔وہیں یہ امر قابل غور ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کا مافیاء اس قدر طاقتور ہے کہ ان ہی کی بے پناہ کرپشن کی وجہ سے دو وزراء پہلے عامر کیانی اور اب ڈاکٹر ظفر مرزاء کو تو وازرتوں سے علیحدہ کردیا گیا لیکن اس مافیاء کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

ڈاکٹر ظفر مرزاء کے متعلق کرپشن تو کم از کم نہیں بد انتظامی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے حکام کو کنٹرول نہ کرنے کے الزام میں حقیقت ضرور ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزاء نے استعفیٰ کے متعلق سب سے پہلے اپنے اسٹاف کو آگاہ کیااور سٹاف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کیساتھ کورونا کی وباء میں دن رات کام کیا۔

ڈاکٹر ظفر مرزاء نے بلاشہ پہلے دن سے ہی محنت سے کام کیا اور کوشش ضرور کی کہ وہ بہتری لاسکیں تاہم وفاقی دارلحکومت کے ہسپتالوں اورصحت سے وابستہ اداروں میں مافیاز نے ان کو کام نہیں کرنے دیا۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے

Related Posts