یومِ استحصالِ کشمیر، پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ اور عالمی جنگ کے خطرات

تازہ ترین

تازہ ترین

یومِ استحصالِ کشمیر، پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ اور عالمی جنگ کے خطرات
یومِ استحصالِ کشمیر، پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ اور عالمی جنگ کے خطرات

وطنِ عزیز پاکستان سمیت دنیا بھر میں یومِ استحصالِ کشمیر آج اِس عہد کی تجدید کیلئے منایا جارہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں حقِ خود ارادیت کیلئے مظلوم کشمیری اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور پاکستان ان کا بھرپور ساتھ دیتا رہے گا جبکہ آج سے 1 روز قبل حکومت نے پاکستان کا ایک نیا سیاسی نقشہ بھی جاری کیا۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے ہوئے 73 سال ہو گئے جس کے بعد ہمارے نقشے میں تبدیلی سن 1971ء میں آئی تھی جب مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا جس پر آج تک ملک کی سیاسی قیادت اور پاکستان کا ہر شہری افسوس کرتا ہے تاہم سن 2020ء میں ایسی کیا بات ہوئی کہ حکومت کو نیا نقشہ جاری کرنا پڑا؟

آئیے سب سے پہلے یومِ استحصالِ کشمیر سے شروع کرتے ہیں کہ اِس کی کیا اہمیت و افادیت ہے اور وزیرِ اعظم عمران خان کی قیادت میں تحریکِ انصاف کی حکومت نے جو نقشہ جاری کیا ہے، اس کا یومِ استحصالِ کشمیر سے ایسا کیا تعلق ہے کہ اسے 5 اگست کے بھارتی اقدامات کے تقریباً 1 سال بعد جاری کیا گیا؟

یومِ استحصالِ کشمیر کیا ہے؟

آج سے ٹھیک 1 سال قبل یعنی 5 اگست 2019ء کو بھارت کی نریندر مودی حکومت نے انتہائی ظالمانہ اقدام اٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کردی اور آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کردیا گیا جس سے کشمیر کی الگ ریاستی حیثیت ختم ہوگئی اور وہ بھارتی آئین کے مطابق ہندوستان کا حصہ بنایا گیا۔

یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بھارتی آئین میں تبدیلی سے مقبوضہ کشمیر کو کیا فرق پڑا؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ فلسطین کی طرز پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کی نو آبادیات بنانا چاہتا ہے جس کے تحت مظلوم کشمیریوں کو خود ان کے آبائی وطن میں ہی پناہ گزین کی حیثیت سے رہنا پڑے گا جو ایک بڑا المیہ ہے۔ 

صرف یہی نہیں، بلکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر لاک ڈاؤن نافذ کیا، عوام کو ضروریاتِ زندگی کی اشیاء ، ادویات اور کھانے پینے کی چیزوں سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی۔ وادی میں انٹرنیٹ سروس، موبائل فون اور ذرائع ابلاغ و ذرائع آمدورفت سمیت ہر چیز بند کرکے کرفیو نافذ کردیا گیا۔

آج بھارت کے نافذ کردہ تاریخِ انسانی کے طویل ترین اور بد ترین کرفیو کو 1 سال مکمل ہوگیا ہے اور مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ سروس اب بھی محدود ہے۔ مظلوم کشمیریوں کو سرچ آپریشن کے نام پر آئے دن قتل کیا جاتا ہے اور ہر گزرتے روز کے ساتھ ظلم و ستم کی نت نئی داستانیں رقم کی جاتی ہیں۔

پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ 

گزشتہ روز حکومتِ پاکستان نے وطنِ عزیز کے نئے سیاسی نقشے کی نقاب کشائی کی جس کیلئے باضابطہ طور پر ایک تقریب رکھی گئی۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب بھی کیا۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ آج سے ہمارا سرکاری نقشہ ہے۔ ہم نے وفاقی کابینہ کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں اور کشمیری قیادت سے بھی نقشے کی تائید حاصل کی۔ نقشے کو نصاب میں استعمال کریں گے۔ 

نئے سیاسی نقشے کا یومِ استحصالِ کشمیر سے تعلق

وفاقی حکومت کے بیان کے مطابق پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ 5 اگست کو بھارت کے غیر قانونی اقدام کی نفی کرتا ہے جبکہ ہم مسئلۂ کشمیر کے حل کیلئے سیاسی و سفارتی کاوشیں جاری رکھیں گے۔

یہاں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو جیسے ہی غیر قانونی اقدام اٹھایا، اس نے ایک نقشہ جاری کیا تھا جسے ہم نے مسترد کردیا ہے۔ آج ہم نے دنیا کو بتا دیا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ 

نئے سیاسی نقشے اور بھارتی نقشے میں فرق 

بین الاقوامی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر ایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس پر ملکیت کے دعویدار پاکستان اور بھارت دونوں ہیں تاہم سیاسی نقشے جاری کرنے کا اہم مقصد  اپنے بیانیے پر زور دینا ہے۔

غور کریں تو پاکستان کا ایک نقشہ وہ ہے جس میں مقبوضہ کشمیر سرے سے موجود ہی نہیں جو بھارت نے جاری کیا جبکہ دوسرا نقشہ جو گزشتہ روز جاری کیا گیا اس میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔

اس حوالے سے وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی معید یوسف نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا اور ہمارا سیاسی نقشہ اِس کی ابتدا ہے۔اختتام کشمیر کی آزادی پر ہوگا۔

معاونِ خصوصی معید یوسف نے یہ بھی کہا کہ دنیا نے اب یہ بات سمجھ لی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیا ہورہا ہے اور اب عالمی برادری خاموشی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ 

تیسری عالمی جنگ کا خطرہ 

معید یوسف کے بیان کو غور سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کشمیر کی آزادی کیلئے بھارت سے جنگ بھی کی جاسکتی ہے کیونکہ پاکستان نے اپنے نقشے سے یہ بات واضح کردی کہ وہ کشمیر کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔

دوسری جانب بھارت مسلسل مقبوضہ کشمیر پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ہر بار جب کسی کشمیری کو شہید کیاجاتا ہے تو اسے پاکستانی جھنڈے کے ساتھ دفن کیاجاتا ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے مقبوضہ وادی کے بچے بچے کی زبان پر ہیں۔

بھارت کی نریندر مودی حکومت نے اقتدار میں آ کر 5 اگست سے جو اقدامات اٹھانا شروع کیے ہیں، ان سے خطے میں امن کو لاحق خطرات میں شدید اضافہ ہوا۔تجزیہ کاروں کے مطابق  پاک بھارت جنگ کے امکانات کو رد نہیں کیاجاسکتا۔

پاک بھارت جنگ سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت رکھتے ہیں جس کا استعمال کوئی نہیں کرنا چاہتا لیکن جنگ میں جیتنے کیلئے جتنے بھی اصول بالائے طاق رکھنے پڑیں، حکومتیں ہر حد سے گزر جایا کرتی ہیں۔

یہ دو ممالک اِس جنگ میں اکیلے نہیں ہیں۔ غور کیجئے تو بھارت کی پشت پر امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ دیگر متعدد اتحادی ممالک موجود ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ روس، چین اور ایران سمیت دیگر ممالک شامل ہوسکتے ہیں۔اگر یہ سب ممالک مل کر ایک دوسرے پر چڑھائی کریں تو تیسری عالمی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔

مسائل کا حل کیا ہے؟

مسئلۂ کشمیر کا سب سے اچھا حل یہ تھا کہ اسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مل بیٹھ کر مذاکرات کی میز پر حل کر لیا جاتا، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عالمی برادری مسئلۂ کشمیر کے حل کیلئے کبھی سنجیدہ نہیں ہوئی۔

اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کو چاہئے کہ مسئلۂ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے کیونکہ ایک طرف نریندر مودی حکومت کی شدت پسندی اور ہندوتوا کا نظریہ ہے تو دوسری جانب اللہ اکبر کی صدائیں اور جذبۂ جہاد ہے جو کسی بھی صورت پسپائی برداشت نہیں کرسکتا۔

ایسے میں مسائل کے حل کیلئے سفارتی سطح پر کاوشیں ضروری ہیں۔ امریکا، اسرائیل اور بھارت سمیت جو ممالک پاک بھارت جنگ چاہتے ہیں، انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تیسری عالمی جنگ کے بعد لاشوں کے ڈھیر کے سوا شاید کچھ بھی باقی نہیں بچے گا جس پر حکومت کی جاسکے۔ مذاکرات اور سفارتی جدوجہد تمام تر مسائل کا واحد حل ہے۔ 

Related Posts