حضرت امام حسینؓ کا چہلم اور واقعۂ کربلا کی تاریخی اہمیت، عزاداری کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

حضرت امام حسینؓ کا چہلم اور واقعۂ کربلا کی تاریخی اہمیت، عزاداری کیا ہے؟
حضرت امام حسینؓ کا چہلم اور واقعۂ کربلا کی تاریخی اہمیت، عزاداری کیا ہے؟

پاکستان سمیت دُنیا بھر کے اسلامی ممالک میں آج حضرت امام حسینؓ کا چہلم مذہبی جوش و جذبے اور ہم آہنگی کے ساتھ منایا جارہا ہے، جبکہ اِس موقعے پر ہمیں واقعۂ کربلا کو یاد کرتے ہوئے اس کی تاریخی اہمیت اور عزاداری پر غور کرنا ہوگا۔

جب کبھی حضرت امام حسین ؓ کے چہلم کیلئے عزاداروں کے جلوس نکلتے ہیں، علم، تعزیے اور ذوالجناح کو سامنے لایا جاتا ہے تو عزاداری کے بارے میں کوئی علم نہ رکھنے والے لوگ اس پر سوال ضرور کرتے ہیں۔

آئیے واقعۂ کربلا اور ذکرِ امام حسین علیہ السلام سے مستفید ہوتے ہوئے عزاداری کے متعلق سوالات کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے 72 جانثاروں کے ہمراہ حضرت امام حسینؓ نے جو قربانی دی، اس سے اسلام کو کیا فوائد حاصل ہوئے۔

واقعۂ کربلا کا مختصر ذکر

آج سے کم و بیش 13 سو 40 سال قبل میدانِ کربلا میں حضرت امام حسین ؓ اپنے اہلِ خانہ اور 72 جانثاروں کے ہمراہ دینِ اسلام پر قربان ہوئے۔ کربلا عراق میں واقع ایک صحرائی مقام ہے جہاں سخت گرمی اور پیاس کے عالم میں خاندانِ نبوت ﷺ پر بد ترین مظالم ڈھائے گئے۔

خلفائے راشدین کا دور گزر چکا تھا، اموی سلطنت پر یزید حکمران تھا جس کی بیعت قبول کرنے سے حضرت امام حسین ؓ نے اور آپ کے ساتھیوں نے انکار کردیا یزیدی فوج نے نبئ آخر الزمان ﷺ کے نواسے حضرت حسین ابنِ علی ؓ کے اہلِ خانہ پر تیروں کی بارش کی اور شہادتوں کے بعد ان کے خیمے تک جلا دئیے۔

شہادتوں اور گرفتاریوں کے بعد خاندانِ اہلِ بیت کی متعدد خواتین اور بچے بازار اور ہجوم والے مقامات سے گزار کر ان کی الگ توہین کی گئی اور یزید کے دربار میں بھیجا گیا جو شام میں تھا۔ امام حسین علیہ السلام کو سید الشہداء اور شاہِ جوانانِ جنت کے القابات سے پکارا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر 32 گھڑ سوار اور 40 پیادوں پر مشتمل 72 جانثاروں نے کربلا میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ شہادتوں کے بعد میدانِ کربلا میں بد ترین ظلم یہ ہوا کہ 72 شہدائے کربلا کے سر نیزوں پر بلند کردیئے گئے اور جسموں پر گھوڑے دوڑا کر ظلم و بربریت کی ناقابلِ بیان داستان رقم کی گئی۔

معرکۂ کربلا کی سب سے بڑی وجہ 

حضرت حسین ابنِ علی ابنِ ابی طالبؓ کا قصور یہ تھا کہ آپ نے یزید کی بیعت نہیں کی تھی کیونکہ آپؓ کے نزدیک یزید جیسے شخص کو حکمران بنانا ایک غیر قانونی و غیر شرعی عمل تھا۔

اگر حضرت امام حسین ؓ یزید کی حکمرانی تسلیم کرلیتے تو واقعۂ کربلا شاید وقوع پذیر نہ ہوتا، لیکن کچھ شرعی اصول ایسے ہوتے ہیں جن کیلئے جان و مال اور عزت و حرمت کی قربانی بھی کچھ نہیں سمجھی جاتی۔ حضرت امام حسین ؓ کی قربانی ایسی ہی عظیم اصول پسند قربانی ہے جو اسلام کی بقاء کی ضامن قرار پائی۔

خلافت ایک انتہائی اعلیٰ منصب تھا جس کیلئے یزید جیسا شخص کسی بھی طرح اہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر یزید کو برحق سمجھا جائے تو پھر نمرود و فرعون کو بھی حکمران ماننا ضروری ہوگا جن میں انسانی صفات یزید کے ہی قریب تھیں کیونکہ یزید شریعتِ اسلامیہ کو نہیں مانتا تھا اور وحی یعنی قرآن کو فرضی قرار دیتا تھا جس سے اس کا کفر ثابت ہے۔ 

کربلا بطور درسگاہ

میدانِ کربلا آج بھی ہر طبقۂ فکر کے مسلمانوں کیلئے ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں حق و باطل کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ یہاں سے ہر مسلمان یہ سیکھ سکتا ہے کہ اگر حق اور باطل کی بات آئے تو ظالم کے ظلم کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اور بغیر کسی ہتھیار کے اپنی بات کیسے ثابت کرنی ہے۔

شعراء نے واقعۂ کربلا کی شان میں مرثیے اور قصیدے لکھے اور حضرت امام حسینؓ کی عظمت کی بے حد تعریف کی ہے۔ تفسیر نگار اور علمائے کرام نے بھی حضرت امام حسینؓ کی اصول پسندی اور تحفظِ شریعت کیلئے جان دینے کی بیش بہا فضیلت بیان کی ہے اور یہی ہر مسلمان کے ایمان کی علامت ہے۔ 

چہلم، سبیلوں اور ایصالِ ثواب کی شرعی حیثیت 

ہر سال صفر کے مہینے میں حضرت امام حسینؓ کا چہلم منایا جاتا ہے جس پر مسلمانوں کا ایک طبقۂ فکر یعنی شیعان تو سختی سے کاربند ہیں جبکہ سنی حضرات اور دیگر مسالک اس کا احترام کرتے ہیں اور عام طور پر اس کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے۔

کوئی مسلمان جب وفات پا جائے یا شہید ہوجائے تو اس کا تیسرا، دسواں یا چالیسواں دن منانا علمائے اہلِ سنت کے نزدیک ضروری نہیں ہے، پھر بھی چالیسواں منانے والوں کو خلافِ شریعت نہیں کہا جاسکتا جبکہ سبیلیں اور حلیم کی تقسیم ایصالِ ثواب کی غرض سے ہوتی ہے۔ 

علمائے کرام کے مطابق ہر اناسن اپنے عمل کا ثواب دوسرے کو بخش سکتا ہے جس کا سبب یہ حدیث ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے 2 مینڈھے اپنی اور اپنی امت کی طرف سے قربان فرمائے تھے۔ 

عزاداری کیا ہے؟

شیعہ مسلکِ فکر کے تحت سینہ کوبی اور ماتم کرنے والے افراد عزادار کہلاتے ہیں جو حضرت امام حسینؓ کے غم میں سینوں پر ہاتھ مارتے ہیں اور برچھیوں سمیت دیگر تیز دھار آلاتِ حرب سے خود کو زخمی بھی کرتے ہیں، تاہم یہ اندازِ عزاداری سنیوں سمیت دیگر مسالک میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔

فقہی اختلاف الگ ہوتا ہے جسے سنی اور شیعہ کا فرق نہیں کہا جاسکتا بلکہ فقہی اختلاف چار مختلف فقہاء کے مطابق نماز اور دینی شعائر کی پابندی کا الگ الگ طریقہ ہوتا ہے۔

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام شافعی رحمہم اللہ نے چار الگ الگ فقہوں کو تخلیق کیا، تاہم یہ چاروں الگ الگ ہونے کے باوجود ایک ہی سمجھے جاتے ہیں، مسلکی اختلافات اس سے بڑے اور الگ ہیں۔

عزاداری سراسر شیعہ مسلک کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے جس سے اہلِ سنت اور دیگر طبقہ ہائے فکر اختلاف رکھتے ہیں۔ ذوالجناح، تعزئیے، جلسے جلوس اور علم کی تمام تر رسوم شیعہ مسلک میں موجود ہیں جن پر صرف شیعہ برادری ہی عمل کرتی ہے۔ 

اسلام کے دو مسالک میں سب سے زیادہ افراد ایمان رکھتے ہیں جن میں سے ایک اہلِ سنت والجماعت اور دوسرا شیعہ طبقۂ فکر ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں، حتیٰ کہ ان کی نمازیں اور اذان کا طریقہ بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

Related Posts