کراچی : قومی احتساب بیورو کی جانب سے بغیر تحقیق کاروائیاں کی جانے لگیں، نیب نے دنیا سے رخصت ہو جانے والے سرکاری افسران کو بھی طلب کرنا شروع کر دیا ۔
کراچی کے ایک ضلعی بلدیاتی ادارے بلدیہ کورنگی کے مرحوم افسر کے حوالے سے پیٹرول وڈیزل کا ریکارڈ طلب کر کے حاضر ہونے کا کال اپ نوٹس جاری کر دیاگیا۔
نیب نے 14-2013میں پیٹرول وڈیزل میں ہونے والےمبینہ غبن کے حوالے سے اسوقت کے ڈائریکٹر سولڈ ویسٹ رفیق شیخ کو ایڈمنسٹریٹر ڈی ایم سی کورنگی کے ذریعے نیب آفس طلب کیا ہے ۔
رفیق شیخ ڈی ایم سی کورنگی کے قیام کے بعد پیٹرول وڈیزل سلپس کا اجراء کرتے تھے تاہم گزشتہ برس علالت کے باعث انتقال کرگئے تھے اب انہیں انکوائری کیلئے طلب کیا گیا ہے۔
کال اپ نوٹس کے اجراء پر بلدیہ کورنگی کے افسران وملازمین نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔بلدیاتی افسران کا کہنا ہے کہ نیب ایک تحقیقاتی ادارہ ہے جسے ایک طریقے سے سراغ رساں ادارہ بھی کہہ سکتے ہیں، جو مالی بدعنوانیوں کا سراغ لگانے کے لیے خود یا اپنے ذرائع استعمال کرتا ہے تاہم دفتر سے بیٹھے بیٹھے ملوث افسران کو طلب کرنے کی عادت سے تحقیقات کی قلعی کھل گئی ہے۔
بلدیہ کورنگی کے ملازمین کا کہنا ہے کہ نیب کو یہ خبر ہونی چاہیے کہ جس شخص کی وہ انکوائری کر رہے ہیں وہ اب زندہ بھی ہے یا نہیں۔
کال اپ نوٹس سے مرحوم رفیق شیخ کی ساکھ متاثر ہونے کے ساتھ ان کی فیملی کو بھی اپنے مرحوم کو نیب کی جانب سے طلب کیے جانے سے شدید تکلیف پہنچی ہے۔