لاہور :منی لانڈرنگ کیس کے تحت تحقیقات کے سلسلے میں جمعہ کے روز شہبازشریف سمیت شریف خاندان کے دس افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کردیئے گئے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ،ان اہلیہ اور دو بیٹیوں کے نام بھی ای سی ایل میں شامل کردیئے گئے ہیں۔
وفاقی کابینہ نے سمری کی منظوری دے دی ہے اور ای سی ایل میں شامل افراد کو کیس ختم ہونے تک بیرون ملک جانے سے روک دیا ہے۔
28 ستمبر کو قومی احتساب بیورو کی ٹیم نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کے بعد منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کو گرفتار کیا تھا۔
جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی ، اس دوران شہباز شریف کے وکیل نے اپنے دلائل پیش کیے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے مشیر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے قومی خزانے کی ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ کی بچت کی اور انہوں نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے کبھی بھی تنخواہ نہیں لی۔
منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کے خلاف کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہے اور کسی بھی گواہ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما پر بدعنوانی کا الزام نہیں لگایا۔
نیب کی تفتیشی رپورٹ کے مطابق شریف فیملی کے چیف فنانشل آفیسر محمد عثمان نے شہباز خاندان کے لئے رقم کی منتقلی کی۔
شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز اور بیٹوں کے بینک اکاؤنٹس غیر ملکی ترسیلات اور قرضوں کے لئے استعمال ہوتے تھے۔ سلمان شہبازکی ہدایت پر وقار ٹریڈنگ کمپنی نے 600 ملین روپے کی جعلی غیر ملکی ترسیلات زر کیں۔