میامی: امریکا اور روس کے 3 خلاباز عالمی خلائی اسٹیشن سے زمین پر لوٹ آئے ہیں جن میں 1 امریکی اور 2 روسی خلاباز شامل ہیں۔
قازقستان میں تینوں خلابازوں نے 196 روزہ خلائی مشن کے بعد زمین پر قدم رکھا جو کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے عائد لاک ڈاؤن کے بعد شروع کیا جانے والا پہلا مشن تھا۔
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کے خلا باز کرس کیسیڈی اور روسی خلا باز اناتولی آئیوانیشن اور آئیوان ویگنر نے قازقستان کے شہر زیزکازگن سے 150 کلو میٹر جنوب مشرق میں جمعرات کے روز قدم رکھا۔
روسی خلائی تحقیقاتی ادارے روسکوسموس نے خلا بازوں کے زمین پر قدم رکھنے کی ویڈیو نشر کی۔ تینوں خلا باز عالمی خلائی اسٹیشن کی طرف زمین سے مئی کے دوران روانہ ہوئے تھے۔
مشن کے بارے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امریکا اور روس میں سیاسی کشیدگی ہمیشہ برقرار رہتی ہے جبکہ یہ مشن گزشتہ تقریباً 10 برس میں روسی اور امریکی خلابازوں پر مشتمل پہلا مشن تھا جو عالمی خلائی اسٹیشن پر پہنچا تھا۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) نے 28 ارب ڈالر کی لاگت کے ساتھ چاند پر واپسی کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ناسا نے اپنے خلا بازوں کو چاند پر واپس بھیجنے کا فیصلہ گزشتہ ماہ کیا جس کی لاگت کا تخمینہ 28 ارب ڈالر لگایا گیا جو کم و بیش 46 کھرب، 57 ارب 85 کروڑ 32 لاکھ روپے بنتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی ادارے ناسا کا 28 ارب ڈالر کی لاگت سے چاند پر واپسی کا فیصلہ
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








