کراچی کے مذبحہ خانوں میں بیمار اور نیم مردار جانور ذبحہ کئے جانے لگے

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی کے مذبحہ خانوں میں بیمار اور نیم مردار جانور ذبحہ کئے جانے لگے
کراچی کے مذبحہ خانوں میں بیمار اور نیم مردار جانور ذبحہ کئے جانے لگے

کراچی:شہر قائد کے مذبحہ خانوں میں بیمار اور نیم مردار جانوروں کے ذبحہ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے،جس کے باعث شہریوں کی صحت اور زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے نااہل اور دوہری شہریت کے حامل افسر کے ڈائریکٹر ویٹرنری بننے کے بعد سے مذبحہ خانوں میں بیمار و نیم مردار جانوروں کو ذبحہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ڈائریکٹر ویٹرنری جمیل فاروقی جن کے پاس پہلے ہی سینیئر ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز مینجمنٹ کا عہدہ بھی موجود ہے۔

مبینہ کرپشن کے باعث مذبحہ خانوں میں ویٹرنری ڈاکٹر یا تو ذبحہ کے وقت موجود ہی نہیں ہوتے یا پھر جانوروں کے معائنے کے وقت انہیں بیمارقرار دے کر ذبحہ کرنے سے روکنے کے بجائے اپنا مبینہ حصہ وصول کر کے بیمار، لاغر اور نیم مردار جانور کو ذبحہ کرنے کی اجازت دے کر شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق نیو کراچی اور لانڈھی کے سرکاری مذبحہ خانوں میں بیمار جانوروں کی اکثریت کو لایا جا رہا ہے،ویٹرنری ڈاکٹر مذبحہ خانوں میں آنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔بہت کم تعداد میں صحت مند جانور لائے جاتے ہیں۔

جانوروں کے ذبیحہ کی مقررہ فیس سے دو گنا زائد فیس بھی وصول کی جاتی ہے جبکہ بیمار اور نیم مردار جانوروں کی مد میں 2 تا 5 ہزار روپے فی جانوروصول کر کے اپنی جیبوں میں ڈال لیا جاتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذبحہ خانوں کا ٹھیکہ ختم ہوئے کئی سال گزر جانے کے باوجود اس ٹھیکیدار سے ساز بازکر کے عدالتوں سے اسٹے آرڈر لے لیا گیا ہے، جس پر وہی ٹھیکیدار اور افسران مزے کر رہے ہیں۔

کراچی کے شہریوں نے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ،سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ، سیکریٹری بلدیات اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناؤنے کھیل کو بند کرائیں اور اس کے کرداروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔

Related Posts