اسلام آباد: 2ماہ قبل قتل ہونے والے تنویر اختر کے قتل کا معمہ حل ہوگیا،اسلام آباد پولیس کا اہلکار قتل میں ملوث نکلا، با اثر افراد ملزمان کو بچانے کے لئے پر تولنے لگے۔
ضلع راولپنڈی کی تحصیل ٹیکسلا کے علاقے سنگجانی کے رہائشی محمدسفیر نے ایم ایم نیوز کو بتایا کہ 2ماہ قبل میرے بھائی 40سالہ تنویر اختر کو گھر سے بلاکر قتل کردیا گیا تھا۔ جس کی ایف آئی آر میں نے متعلقہ تھانے میں درج کروا دی تھی۔
مجھے بعض ذرائع نے بتایا کہ میرے بھائی تنویر اختر کو ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد ملزم عارف ولد تاج خان،کامران ولد خالد محمود اور اسلام آباد پولیس کے اہلکار اسد ولد صفدر نے قتل کیا ہے، جیوفینسنگ رپورٹ اور میپ کے مطابق اسد اس قتل میں پوری طرح ملوث ہے۔
انہوں نے کہاکہ 2ماہ تک علاقے کے ان بااثرافراد نے کیس میں کوئی پیش رفت نہ ہونے دی جبکہ نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ او تاج گل نے اپنی ٹیم کے ہمراہ مرکزی ملزم اسد کو گرفتارکرلیا ہے۔
ملزمان کو بچانے کیلئے مقامی سیاسی نمائندوں نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ایس ایچ او ٹیکسلاابھی تک کسی دباؤ کو قبول نہیں کررہے۔
لیکن اس بات کی قوی امید ہے کہ اس ایس ایچ او کا تبادلہ بہت جلد کروا دیاجائے گا، میں آر پی او، سی پی او، ایس پی پوٹھوہار راولپنڈی سے اپیل کرتا ہوں کہ اسد اور دیگر ملزمان عارف اور کامران میرے بھائی کے قاتل ہیں، ان تمام ملزمان کو قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








