اسلام آباد میں عطائی ڈاکٹر نے غلط آپریشن کرکے خاتون کو ماردیا، پولیس ساز باز کرکے خاموش

تازہ ترین

تازہ ترین

Doctors’ negligence killed woman in Islamabad

اسلام آباد :شہر اقتدار میں  تھانہ گولڑہ کی حدود سیکٹر جی 13 گلی نمبر 12 گولڑہ روڈ پر واقع کلینک میں عطائی ڈاکٹر شمیم نے مبینہ طور پر غلط آپریشن کرتے ہوئے ثمینہ مسیح کی جان لے لی ۔

ثمینہ کے خاوند پطرس مسیح نے ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مورخہ22 ستمبر  2020کو اپنی اہلیہ ثمینہ مسیح کو ڈلیوری کے لیے قاسم زمان ہسپتال لے گیا تو وہاں پر لیڈی ڈاکٹر شمیم نے میری بیوی کو داخل کر لیا اور آٹھ گھنٹے گزرنے کے بعد کہا کہ آپ مزید انتظار کریں نارمل ڈلیوری ہو جائے گی ۔

انہوں نے بتایا کہ دو گھنٹے مزید گزرنے کے بعد ڈاکٹر شمیم زمان نے مجھے کہا کہ آپ کی بیوی کا بڑا آپریشن کرنا پڑے گا آپ جلدی سے 38 ہزار 500 روپے جمع کرائیں میں نے جیسے تیسے کر کے 38 ہزار پانچ سو روپے جمع کرا دیئے تو ایک گھنٹے کے بعد میری بیوی کا آپریشن کیا گیا ۔

آپریشن کے بعد مجھے نرس نے آپریشن روم سے بچہ باہر لاکر دیا اور تقریبا! ایک گھنٹے کے بعد میری بیوی کو آپریشن تھیٹر سے نکالا تو میری بیوی کی حالت خراب تھی لیڈی ڈاکٹر شمیم نے میری بیوی کو تین بوتلیں پانی پلا دیا جس سے اس کا پیٹ پھولنا شروع ہوگیا تو میری بیوی نے چیخنا چلانا شروع کر دیا ۔

لیڈی ڈاکٹر نے کہا کہ مجھے تیرہ ہزار روپے مزید دو میں دوبارہ آپریشن کرکے چیک کرتی ہوں کہ کیا ہوا ہے ، پھر مجھے عطائی لیڈی ڈاکٹر شمیم نے کہا کہ تم اپنی بیوی کو پمز لے جاؤ تو میں اپنی بیوی کو پمز ہسپتال لے گیا تو وہاں ٹیسٹ کرانے کے بعد پتہ چلا کہ لیڈی ڈاکٹر شمیم نے میری بیوی کی یورین والی نالی کاٹ دی ہے جس کی وجہ سے میری بیوی کا پھول گیا اور وہ تیرہ دن کے بعد میری بیوی کی موت واقع ہو گئی ۔

انہوں نے بتایا کہ میں دوبارہ قاسم زمان کلینک لیڈی ڈاکٹر شمیم کے پاس گیا تو مجھے لیڈی ڈاکٹر شمیم اور اس کے بھائیوں نے گندی گندی گالیاں دیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی اور کہا کہ اگر تم نے پولیس کو بتایا تو ہم تمہارا برا حال کریں گے اپنے دیے ہوئے 38 ہزار پانچ سو روپے لے جاؤ ورنہ ہم تمہیں تمہاری بیوی کے پاس بھیج دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ میں درخواست لے کر مقدمہ کے اندراج کے لئے تھانہ گولڑہ گیا تو وہاں پر اے ایس آئی عدنان نے میری درخواست لے کر رکھ لیں اور اس پر کوئی کارروائی نہ کی الٹا مجھے ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا اور کہا کہ تم اپنا کیس واپس لے لو۔

مزید پڑھیں :پنجاب سے پہلی خاتون ٹریفک وارڈن اقوامِ متحدہ مشن کیلئے روانہ ہو گئی

ان کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی مبینہ طور پر ملزمہ عطائی ڈاکٹر شمیم سے ساز باز کر چکا ہے اور اب تک میری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ،میرے چھوٹے چھوٹے تین بچے ہیں ایک تو ابھی صرف ایک ماہ کا ہے۔

میں آئی جی اسلام آباد اورایس پی اسلام آباد سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ میری بیوی کی قاتلا کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے اس کو قانون کے مطابق سزاء دی جائے اور مجھے انصاف فراہم کیا جائے۔

Related Posts