کراچی :سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالہادی نے وزیراعظم عمران خان کے ایس ایم ایز اور بڑی صنعتوں کے لیے اعلان کردہ بجلی ٹیرف پیکیج کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم تجاویز پیش کی ہیں ۔
وزیراعظم سے درخواست کی گئی ہے کہ چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کے70کلو واٹ لوڈ کو 140کلو واٹ تک کیا جائے تاکہ ایس ایم ایز اضافی بجلی کے استعمال پر 50فیصد بجلی کے رعایتی ٹیرٖف کا فائدہ اٹھاسکیں جبکہ بڑی صنعتوں کے لیے اضافی لوڈ منظور کروانے کے لیے کے الیکٹرک کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے اور لاگت کو کم کیا جائے۔
عبدالہادی نے ایک بیان میں کہاکہ ایس ایم ایز میں شمار ہونے والی چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کو 70کلو واٹ لوڈ تک بجلی استعمال کرنے کی اجازت ہے اور جس ایس ایم ایز کا لوڈ 70کلو واٹ سے بڑھتا ہے تو وہ ایس ایم ایز کی کیٹگری سے خارج ہوجاتی ہے لہٰذا یہ بات غور طلب ہے کہ ایس ایم ایز کو وزیراعظم عمران خان کے اعلان کردہ بجلی ٹیرف پیکیج سے مستفید ہونے کے لیے 70کلو واٹ سے لوڈ کو بڑھانا ہوگا اور اضافی بجلی کے حصو ل کے لیے کے الیکٹرک سے نیا لوڈ منظور کروانا ہوگا۔
70 کلو واٹ لوڈ سے زیادہ استعمال پر وہ ایس ایم ایز کی کیٹگری سے خارج ہوکر لارج اسکیل یونٹ میں شمار ہو جائیںگی اور پھر معمول کے چارجز لاگو ہوں گے لہٰذا حکومت ایس ایم ایز کے لیے لوڈکو کم ازکم 140کلو واٹ لوڈ تک توسیع دے تاکہ ایس ایم ایز سیکٹر وزیراعظم کے اعلان کردہ پیکیج سے مکمل طور پر فائدہ اٹھا سکے اور چھوٹی و درمیانی درجے کی صنعتوں کو فروغ حاصل ہو جس سے یقینی طور پر روزگار کے وسیع مواقع پیداہوں گے اور ملکی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔
صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے وزیراعظم عمران خان کی توجہ بڑی صنعتوں کے لیے اعلان کردہ 25فیصد ٹیرف رعایت سے مستفید ہونے میں حائل بعض رکاوٹوں کی طرف بھی مبذول کرواتے ہوئے کہاکہ پیک اور آف پیک آور کا خاتمہ حقیقتاً ایک اچھا اقدام ہے ۔
صنعتیں پیک آور کے انتہائی زائد ٹیرف کی وجہ سے 7سے رات11بجے 4گھنٹوں کے لیے اپنا پیدواری عمل بند کردیتی ہیں یا پھر ان اوقات کار میں بجلی کی بجائے گیس جنریٹر کو متبادل کے طور پر استعمال کرتی ہیں مگر اب وہ پیک آور کے خاتمے اور 24گھنٹے یکساں بجلی کے نرخوں پر بلاکسی رکاوٹ پیداواری سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گی تاہم بڑی صنعتوں کے لیے بھی اس پیکیج سے فائدہ اٹھانے میں اب بھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔
بڑی صنعتوں کو بھی اضافی بجلی کے استعمال پر کے الیکٹرک سے اضافی لوڈ منظور کروانا ہوگا جو کہ کے الیکٹرک کے پیچیدہ طریقہ کار کی وجہ سے اتنا آسان نہیں۔
انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی کہ وہ کے الیکٹرک کو اضافی لوڈ منظور کروانے کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور پی ایم ٹی کی تنصیب سمیت دیگر مد میں لاگت کو کم کرنے کی ہدایت کریں تاکہ صنعتیں اضافی لوڈ کی منظوری حاصل کرکے وزیراعظم کے اعلان کردہ پیکیج سے مستفید ہوسکیں۔