خواتین کے ساتھ بڑھتے ہوئے ہراسگی کے واقعات اور حکومت کے فرائض

تازہ ترین

تازہ ترین

خواتین کے ساتھ بڑھتے ہوئے ہراسگی کے واقعات اور حکومت کے فرائض
خواتین کے ساتھ بڑھتے ہوئے ہراسگی کے واقعات اور حکومت کے فرائض

خواتین سے ہراسگی سے مراد کسی خاتون کو ڈرانا دھمکانا، تشدد کرنا اور خوفزدہ کرنا ہے جس میں جنسی ہراسگی اور زیادتی دونوں شامل ہیں تاہم جب بات جنسی زیادتی یا تشدد کی ہوتی ہے تو اس کی ابتدا صرف اور صرف ہراسگی سے ہی ہوتی ہے۔

دستیاب انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان پہلے جنگلوں اور غاروں میں زندگی بسر کیا کرتا تھا جہاں زندگی کی بقاء ہی جینے کا سب سے بڑا قانون ہوتی تھی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان نے ظلم کی تعریف سیکھی اور ظلم کرنا اور سہنا بھی سیکھ لیا۔

خواتین کے ساتھ ہراسگی کے واقعات طاقتور اور کمزور کے اصول کی بنیاد پر بڑھ رہے ہیں کیونکہ جن معاشروں میں انصاف کا نظام کمزور پڑ جائے وہاں جنگل کا قانون نافذ ہوجاتا ہے اور شاید یہی پاکستان سمیت دنیا بھر کی خواتین کے ساتھ ہورہا ہے۔

آئیے سب سے پہلے ہراسگی کے تازہ ترین واقعات پر نظر ڈالتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور اگر ہم اس کا سدِ باب کرنا چاہیں تو اس کا کیا طریقہ ہوسکتا ہے؟

جنسی ہراسگی کے تازہ ترین واقعات

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ روز 3 غیر ملکی خواتین کو 3 اوباش نوجوانوں نے ہراسگی کا نشانہ بنایا۔ سیر و سیاحت کیلئے آنے والی خواتین کے ساتھ یہ سلوک ملک میں جرائم کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی ہمارے تشخص کو برباد کرنے کا باعث ہے۔

اسی طرح نجی بینک میں ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا، بینک نے ملازم کو برطرف اور پولیس نے گرفتار کیا تاہم واقعے کی جو ویڈیو وائرل ہوئی، اس سے من حیث القوم ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہمارا کیا تشخص اجاگر ہوا، یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ 

ستمبر کے دوران ایف آئی اے میں جنسی ہراسگی کا شکار ایک لڑکی کا کیس آیا، لاہور کی رہائشی متاثرہ لڑکی کے مطابق علی نیازی نامی ملزم نے اسے جنسی طور پر ہراساں کیا، سائبر کرائم ونگ نے مذکورہ ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔

لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ تشویشناک ہے، ملزم کو جیل بھیج دیا گیا اور اس کے ساتھیوں نے لڑکی کے ساتھ بلیک میلنگ کی اور جان لینے کی دھمکیاں دیں۔ بار بار شکایت کے باوجود ایف آئی اے نے مبینہ طور پر کوئی ایکشن نہ لیا اور لڑکی نے خودکشی کرکے اپنی زندگی ہی ختم کر لی۔

لاہور میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے اپنے استاد پر جنسی ہراسگی کا الزام عائد کیا جس پررواں برس جولائی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی۔ طالبہ کے مطابق استاد نے قابلِ اعتراض حالت میں اسے ویڈیو کال کی۔ اگر اساتذہ طلباء کے ساتھ ایسی حرکتیں کریں گے تو ملک کا مستقبل کیسا ہوگا؟ یہ ہم خود سوچ سکتے ہیں۔

ہراسگی کا الزام بطور ہتھیار 

ضروری نہیں کہ ہراسگی کے تمام ہی الزامات درست ہوں کیونکہ حال ہی میں می ٹو کے نام سے جو مہم چلائی گئی اور اس میں دنیا بھر کے فلمی ستاروں، فنکاروں اور ڈائریکٹرز وغیرہ کے نام سامنے آئے، اس میں یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ ہراسگی کے الزام کو بطور ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے۔

بطور ہتھیار استعمال سے مراد یہ ہے کہ اداکاروں پر یا کسی بھی استاد یا اہم رتبے پر فائز شخص پر کوئی الزام لگانا اس کے کیرئیر کو برباد کردیتا ہے اور جو شخص ایسے کسی انسان کا کیرئیر برباد کرنا چاہے، وہ اس پر جنسی ہراسگی کا الزام لگا سکتا ہے۔

ہوا کچھ یوں کہ جنسی ہراسگی کا الزام لگایا تو گیا تاہم ثابت نہ کیا جاسکا، جیسا کہ علی ظفر اور میشا شفیع کا کیس ہمارے سامنے ہے جو رواں برس مئی تک اخبارات اور ملکی میڈیا کی زینت بنا رہا۔ ہوسکتا ہے میشا شفیع بے قصور ہوں اور علی ظفر پر الزام بعض وجوہات کے تحت ثابت نہ کیا جاسکتا ہو، تاہم اس سے جنسی ہراسگی کے الزام کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے تاثر کو تقویت ملی جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ 

جرم کے ثبوت پر ایک تکلیف دہ حقیقت 

یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ قوم کی کسی بیٹی، ماں یا بہن کو کوئی اوباش شخص خدانخواستہ ہراسگی کا نشانہ بنائے تو وہ انصاف کیسے حاصل کرے گی؟

تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ہراسگی کا شکار خواتین عموماً یہ بات زبان پر لائے بغیر چپ چاپ ظلم سہتی رہتی ہیں جبکہ اسلام نے ہمیں سمجھایا ہے کہ ظلم سہنا ظالم کو مزید طاقتور اور کمزور کو مزید پستی کی طرف دھکیلتا ہے۔

ریت میں منہ چھپالینے سے حقیقت نہیں بدل سکتی تاہم مشرقی خواتین کی اکثریت زیادہ تر کیسز میں خاموشی اختیار کرلیتی ہیں اور یہاں ہمارا اگلا سوال یہ ہے کہ اگر خواتین بولیں اور ہراسگی کا الزام لگا بھی دیں تو اسے ثابت کیسے کیا جائے؟

بعض حالتوں میں خواتین بد ترین جنسی ہراسانی کے باوجود کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکتیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انہیں پوری عمر انصاف نہیں ملتا اور جرم کے بعد بلیک میلننگ، دھمکیاں اور رسوائی الگ مقدر بنتی ہے۔ 

حکومت کے اور ہمارے فرائض 

کسی بھی ریاست کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرے۔ ایک عورت کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ بلا خوف و خطر سونے چاندی کے زیورات سے لدی ہوئی ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جائے اور اسے کوئی چور، لٹیرا یا زناکار ہاتھ تک نہ لگا سکے۔

نبی اکرم ﷺ کے دور میں جب کسی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی تھی تو وہ آپ ﷺ سے شکایت کرتی اور اس پر انصاف حاصل کرتی تھی لیکن کوئی صحابی اسے یہ مشورہ  نہیں دیتا تھا کہ تم نے جرم کی شکایت کیوں کی؟ تمہیں خاموش ہوجانا چاہئے تھا لیکن آج ہم اسلام کے نام پر ہی خواتین کو جنسی ہراسگی چپ چاپ سہنے کا مشورہ دے کر خود کو بہترین مسلمان ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔

بطور مسلمان اور پاکستانی شہری ہمارا یہ اوّلین فرض ہے کہ خواتین کی عزت کرنا سیکھیں۔ یہ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہماری ہی عزت و ناموس اور ہمارے ہی ملک کا وقار اور مان ہیں۔

ریاست کا فرض ہے کہ وہ جنسی زیادتی اور ہراسگی سمیت ہر جرم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے لیکن ایک شہری کے طور پر ہماری ذمہ داریاں اس سے کہیں بڑی ہیں۔

ہمیں اپنے آپ سے وعدہ کرنا ہوگا کہ آج کے بعد جب کوئی خاتون گھر سے باہر کسی بھی ضروری کام سے نکلے تو اسے بے جا چبھتی ہوئی نظروں اور چھیڑ چھاڑ سمیت اپنی کسی بھی اوباش حرکت کا نشانہ نہ بنائیں کیونکہ قوم کی بیٹیوں کی عزت سے ہی ہم ایک عزت دار اور قابلِ احترام قوم بن سکتے ہیں۔ 

Related Posts