دُنیا بھر میں معذور افراد کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے جس کا مقصد پاکستان سمیت ہر ملک میں انسانی ہمدردی کے جذبات کو فروغ دے کر خصوصی افراد کی مدد کے جذبات کو ابھارنا اور معذوروں کو معاشرے کا کار آمد حصہ بنانا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے اپنے 2030ء کے ترقیاتی اہداف کا حصہ بناتے ہوئے خصوصی افراد کو اہمیت دی ہے تاکہ معذور افراد کے بنیادی انسانی حقوق کو محسوس کیا جائے کیونکہ اقوامِ متحدہ کے نزدیک معذوروں کے حقوق کا احساس صرف عدل و انصاف کا تقاضا ہی نہیں بلکہ انسانیت کے مشترکہ مستقبل کیلئے سرمایہ کاری بھی ہے۔
آئیے معذور افراد کے عالمی دن کے موقعے پر خصوصی افراد کے متعلق حیرت انگیز اعدادوشمار کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ معذور افراد کے حقوق کیا ہیں اور انہیں معاشرے کا کارآمد حصہ بنانے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔
دُنیا بھر میں کتنے افراد معذور ہیں؟
عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ دُنیا بھر کے 1 ارب انسان کسی نہ کسی طرح معذوری کا شکار ہیں جو اپنی زندگی کسی کی مدد کے بغیر نہیں گزار سکتےاور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دُنیا کی 7 اعشاریہ 8 ارب آبادی میں سے اگر 1 ارب انسان معذور ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے 12 اعشاریہ 8 فیصد لوگ معذور ہیں جنہیں انسانی ہمدردی کی عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ ضرورت ہے۔
سن 1992ء میں اقوامِ متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں خصوصی افراد کو بنیادی انسانی حقوق اور ضروری سہولیات کی حفاظت کی ضمانت دی گئی تاہم عالمی اداروں کے ساتھ ساتھ عالمی برادری بھی اِس عہد کی پاسداری میں ناکام نظر آتی ہے۔
پاکستان میں خصوصی افراد کے متنازعہ اعدادوشمار
وطنِ عزیز پاکستان میں خصوصی افراد کے اعدادوشمار متنازعہ اِس لیے قرار دئیے جاتے ہیں کہ پاکستان میں مردم شماری کو کبھی وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دی جانی چاہئے تھی اور سرکاری اداروں نے اعدادوشمار کو توڑ مروڑ کر غالباً اِس لیے پیش کیا تاکہ عوام پر حکومت کے اخراجات کم سے کم ہوں۔
سن 1998ء میں پاکستان میں جو مردم شماری ہوئی، اس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے 2 اعشاریہ 38 فیصد لوگ معذور ہیں تاہم جب 2017ء میں مردم شماری ہوئی تو بتایا گیا کہ مملکتِ خداداد کی آبادی کا صفر اعشاریہ 48 حصہ معذور افراد پر مشتمل ہے جو کسی بھی طرح سمجھ میں آنے والی بات نہیں لگتی۔
عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 15 فیصد آبادی کسی نہ کسی طرح معذوری کا شکار ہے جسے بنیاد بنا کر برٹش کونسل نے اپنی 2017ء کی رپورٹ میں پاکستان کے 2 کروڑ 70 لاکھ انسانوں کو خصوصی افراد قرار دیا۔
معذور افراد کے اہم حقوق
اقوامِ متحدہ نے معذور کی اصطلاح کا مطلب بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی ایسے شخص کو معذور کہا جاسکتا ہے جو ذہنی یا جسمانی صلاحیت کی کمی یا محرومی کے باعث ایک عام شہری کی طرح زندگی نہ گزار سکتا ہو، چاہے یہ مسئلہ پیدائشی ہو یا پھر کسی حادثے کے نتیجے میں ایسا ہوا ہو۔
ایسے افراد کے اہم حقوق بتاتے ہوئے اقوامِ متحدہ نے کہا کہ انسانی عزتِ نفس اور وقار پر خصوصی افراد کا وراثتی حق تسلیم کیا جائے گا چاہے ان کا تعلق کسی بھی برادری، قبیلے، ذات یا نسل سے ہو۔ انہیں وہی حقوق حاصل ہوں گے جو ایک عام انسان کو حاصل ہوتے ہیں۔
خصوصی افراد کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ خود انحصاری کی منزل حاصل کرنے کیلئے جن ذرائع یا سہولیات کے محتاج ہوں، انہیں مہیا کی جائیں اور ان کی وہ دیکھ بھال کی جائے جو انہیں آسان سے آسان زندگی گزارنے کیلئے مہیا کی جاسکے۔
بنیادی انسانی حقوق میں معذور افراد کا یہ حق بھی شامل ہے کہ انہیں طبی، نفسیاتی اور دیگر قسم کے علاج تک رسائی دی جائے۔ضرورت کے مطابق بحالی مراکز میں داخل کرایا جائے یا ایسے ہسپتالوں میں جہاں ان کا علاج ممکن ہوسکے۔
معاشی اور معاشرتی تحفظ بھی معذور افراد کے بنیادی حقوق میں سے ایک اہم حق ہے جس کے بعد ایسے افراد معاشرے کے مفید، پیداواری اور اہم فرد ثابت ہوسکیں۔ انہیں اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ رہنے اور تمام سماجی و تخلیقی سرگرمیوں میں شامل ہونے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔
اہم حقوق میں یہ حق بھی شامل ہے کہ معذور افراد کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک، بے جا ہرزہ سرائی، مارپیٹ اور تشدد سے محفوظ رہ سکیں، انہیں ظالم معاشرے کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے بلکہ ان کی ہر خطرے سے حفاظت کی جائے۔
خصوصی افراد معاشرے کا بیش قیمت حصہ
غور طلب بات یہ ہے کہ کسی بھی انسان کو اگر کوئی معذوری لاحق ہو جائے تو وہ کسی نہ کسی حد تک یا پھر مکمل طور پر بے بس ہوجاتا ہے۔
جسمانی معذوری کے ساتھ ساتھ ذہنی معذوری بھی بڑا مسئلہ ہوتی ہے۔ خصوصی افراد کو انسانی ہمدردی کے تحت معاشرے کا بیش قیمت حصہ سمجھنا چاہئے۔
بعض اوقات خصوصی افراد کی مدد اور دیکھ بھال کرکے انہیں معاشرے کا ایسا فعال انسان بنایا جاسکتا ہے جو اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو حیران کرسکیں۔
ہوتا یہ ہے کہ لوگ معذور افراد کو معاشرے کا بے کار حصہ سمجھ کر ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض اوقات خون کے رشتے بھی انہیں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں جو بے حسی کی بد ترین مثال ہے۔
بے حسی اور سفاکی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے خصوصی افراد سے معاشرے کو ہمدردی اور حسنِ سلوک سے کام لینا چاہئے کیونکہ مصیبت کبھی پوچھ کر نہیں آتی اور برا وقت کسی بھی انسان پر آسکتا ہے۔ انسانی ہمدردی ہی اشرف المخلوقات کی پہچان قرار دی جاسکتی ہے۔