کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں ملازمین اور افسران کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی میں سیکورٹی انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے۔کورونا میں مبتلا کے ایم سی کا ملازم عمارت میں داخل ہو گیا۔کے ایم سی کے 3 مرکزی گیٹس پر 3 شفٹوں میں 50 کے قریب سیکیورٹی گارڈز اور وارڈزنز کو کورونا سے بچانے کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔
سیکیورٹی گارڈز اور وارڈنز کے پاس بخار چیک کرنے کا آلہ موجود نہیں، نہ وہ کسی کورونا سے متاثرہ یا مشکوک شخص کو روکنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان کی اپنی زندگیاں بھی داؤ پر لگی ہیں جبکہ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی افتخار شالوانی شہرِ قائد میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرا رہے ہیں تاہم خود کے ایم سی میں ایس او پیز پر کوئی عمل درآمد نہیں ہورہا۔
کے ایم سی کو سندھ حکومت نے تختۂ مشق بنا رکھا ہے جہاں مستقل ایڈمنسٹریٹر تعینات نہ ہونے سے کمشنر کراچی کو ایڈمنسٹریٹر بنا کر ادارے کو مزید مسائل میں پھنسا دیا گیا ہے۔ کمشر کراچی کے ایم سی کے مرکزی دفتر کے مسائل حل نہ کرسکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کے ایم سی اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کے ایم سی آفس کے باہر آوارہ کتے کھڑے کر کے احتجاج کا اعلان
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








