واشنگٹن: غیرت کے نام پر قتل کی گئی پاکستانی ماڈل اور اداکارہ قندیل بلوچ کی داستانِ حیات پر مبنی فلم لائف ٹو شارٹ سب سے بڑے امریکی فلم فیسٹیول میں نمائش کیلئے پیش کردی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق شرمین عبید چنائے فلمز کے پلیٹ فارم سے پروڈیوس کی گئی لائف ٹو شارٹ نامی دستاویزی فلم معروف اداکارہ قندیل بلوچ اور غیرت کے نام پر قتل جیسے حساس اور تکلیف دہ موضوع پر تخلیق کی گئی ہے جبکہ قندیل بلوچ صرف 26 سال کی عمر میں اپنے ہی بھائی کے ہاتھوں قتل ہوئی۔
انتہائی کم عرصے میں مقبولیت کی بلندی کو چھونے والی قندیل بلوچ بعض متنازعہ اور بالخصوص مفتی قوی کے ہمراہ ریکارڈ کی گئی ویڈیوز کے باعث عوام کی توجہ کا مرکز بنی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شرمین عبید چنائے فلمز نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم نے قندیل بلوچ کی داستانِ حیات پر مبنی فلم لائف ٹو شارٹ امریکا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ڈی اور سی این وائی سی کے 11ویں فیسٹیول میں پیش کی ہے۔
https://twitter.com/SOCFilms/status/1335931777840451586
لائف ٹو شارٹ کے بارے میں ڈائریکٹر صفیہ ظفر عثمانی نے کہا کہ یہ فلم 3 سال سے زائد مدت میں تیار ہوئی جس کی تیاری کے بعد مجھے گھبراہٹ اور جوش کے دونوں ہی جذبات نے گھیر رکھا ہے۔
موضوع کی حساسیت کے حوالے سے صفیہ ظفر نے کہا کہ قندیل ذاتی شناخت کے بڑے خواب دیکھا کرتی تھی اور میں ہر مرتبہ اس بات سے خوف محسوس کرتی ہوں کہ ہر عورت کو یہ بنیادی حق نہیں ملتا کہ زندگی اپنی مرضی سے گزار سکے۔
انہوں نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ مجھے ایسا دن بھی دیکھنا نصیب ہو جب کسی عورت کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق ملے جس کیلئے اس سے اس کی زندگی طلب نہ کی جائے۔
یاد رہے کہ آج سے 4 سال قبل معروف ماڈل اور متنازعہ اسکینڈلز کی زد پر رہنے والی 26 سالہ لڑکی کو بے دردی سے قتل کردیا گیا جس کا نام قندیل بلوچ ہے جسے آج تک انصاف مہیا نہ ہوسکا۔
قندیل بلوچ کی ذات سے منسلک مختلف سوالات کا جائزہ لینے کیلئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے نظامِ انصاف میں کیسے کیسے سقم پائے جاتے ہیں اور ان کا کیسے تدارک کیا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: قندیل بلوچ کی چوتھی برسی اور پاکستان کے نظامِ انصاف کی حالتِ زار
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








