اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں اے ٹی ایس اہلکاروں کی فائرنگ سے قتل ہونے والے نوجوان اسامہ ستی قتل کیس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جوڈیشل انکوائری کمیشن کی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، کمیشن نے اسامہ ستی کا قتل ٹارگٹ کلنگ قرار دے دیا ہے، پولیس حکام پولیس کے اہم افسر کو بچانے کے لئے سرگرم ہو گئے ۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وقوعہ کے روز ایس پی سی آئی اے ملک نعیم گشت افسر مامور تھے ، وائرلیس کال پر گشت افسر ملک نعیم نے کوئی رسپانس نہیں کیا ، جوڈیشل انکوائری افسر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وائرلیس کال کے بعد کسی ایس پی یا ڈی ایس پی نے جواب نہیں دیا ۔
ذرائع کے مطابق اسامہ قتل کے وقوعہ کے روز ایس پی آئی نائن نے خصوصی درخواست پر اے ٹی ایس اہلکاروں کی ڈیوٹی لگوائی ، اے ٹی ایس اہلکاروں کو ایس پی آئی نائن نے رات نو بجے بریف کیا ، اے ٹی ایس اہلکاروں نے صبح نو بجے تک ڈیوٹی کرنی تھی ، اے ٹی ایس کے اہلکار آئی نائن ڈیوٹی پر موجود تھے ۔
ایس پی آئی نائن کا آپریٹر اہلکاروں کو سرچنگ کے لئے نجی یونیورسٹی لے کر گیا ، وائرلیس پر ڈکیتی کی کال پر اہلکاروں نے گاڑی کا پیچھا کیا ،اہلکاروں نے یونیورسٹی سے ہائی وے تک آتے ہوئے گاڑی پر چار فائر کئے ، گشت افسر ایس پی سی آئی اے ملک نعیم نے وائرلیس کال پر پروسیڈ نہیں کیا ، جوڈیشل انکوائری افسر نے اپنی رپورٹ میں وائرلیس کال پر پروسیڈ نہ ہونے کا حوالہ دیا ہے ۔
انکوائری افسر نے وائرلیس سسٹم پر سوالات اٹھائے، انکوائری افسر نے تکنیکی طور پر ایس پی کو ذمہ دار قرار دیا ، وائرلیس کال کے بعد ایس پی یا ڈی ایس پی کو پروسیڈ کرنا چاہئے تھا ، وائرلیس کال پر گشت افسر نے بھی رسپانس نہیں کیا ، متعلقہ ایس یا ڈی ایس پی نے بھی وائرلیس کال ہر پروسیڈ نہیں کیا ۔
انکوائری کمیشن کے معتبر ذرائع کے مطابق جوڈیشل انکوائری آفیسر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسامہ کے قتل سے اسلام آباد کے شہریوں میں خوف و ہراس اور دہشت پھیلی ، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت مقدمہ چلایا جائے ۔
وزارت داخلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج پر مشتمل جوڈیشل انکوائری کرائے ، گاڑیوں کے کالے شیشوں کے جاری پرمٹ فوری منسوخ کئے جائیں ، کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ اے ٹی ایس کے اہلکاروں کی وقتا فوقتا تربیت کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد پولیس کے وائرلیس سسٹم میں بہتری کی ضرورت ہے ، اے ٹی ایس کے آفیسرز کی پوسٹنگ ٹرانسفر آپریشنز کے اعلی افسران کے بورڈ اور ماہر نفسیات کی منظوری سے ہونی چاہئے ، پولیس کا مانیٹرنگ نظام انتہائی کمزور ہے ، موقع کی مناسبت سے قابو پانے کے لئے سینئر پولیس افسر کی ذمہ داری تھی ، متعلقہ ایس پی یا ڈی ایس پی صورتحال پوچھتے اور پروسیڈ کرتے ۔
کمیشن نے وائرلیس سسٹم پر سوالات اٹھائے ہیں ، کمیشن کا کہنا ہے کہ واایرلیس کنٹرول رومز کے پاس ڈیجیٹل وائس ریکارڈنگ ٹیکنالوجی ہونی چاہیے، آئی جی آفس کو وائرلیس پیغام آگے بڑھانے کے لئے افسران کے لئے کوڈ آف کنڈکٹ بنانا چاہیے ، اے ٹی ایس اہلکاروں کو ایس ایس پی آپریشنز کی منظوری کے بغیر عام فورس کے ساتھ تعینات نہ کیا جائے ، کمیشن کی رپورٹ آئندہ ایک دو روز میں وزارت داخلہ کو بھجوائی جائے گئی۔