کراچی کے چڑیا گھروں سے متعلق ٹھیکوں کی نیلامی منسوخ کرانے کیلئے جعلی بولی لگوائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے چڑیا گھر ، سفاری پارک اور کورنگی چڑیا گھر کے ٹھیکوں کی نیلامی منسوخ کرانے کے لیے کرپٹ افسران نے غیر متعلقہ افراد کو ٹھیکیدار بنا کر بولی لگوا دی، بغیر بینک پے آرڈر کے بولی دینے پر نیلامی منسوخ کردی گئی۔
غیر قانونی طور پر اور بغیر جوائننگ لیٹر کے بحیثیت ڈائریکٹر چڑیا گھر تعینات خالد ہاشمی کی سرپرستی میں کرپٹ سازشی افسران نیلامی رکوانے میں کامیاب ہو گئے ، ایڈمنسٹریٹر کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا جس کے بعد دوبارہ نیلامی کی تیاری جاری ہے۔
بلدیہ عظمئ کراچی کے چڑیا گھر ، سفاری پارک اور کورنگی چڑیا گھر میں داخلہ فیس اور چارج پارکنگ فیس وصولی کے حقوق اور جانوروں کو خوراک فراہم کرنے کے ٹھیکوں کی نیلامی جعلی ٹھیکے داروں کی کامیاب بولی دیے جانے پر منسوخ کردی گئی ۔
چڑیا گھر کی داخلہ فیس کی نیلامی کیلئے 10 کروڑ 35 لاکھ روپے کی کامیاب بولی دی گئی تھی جبکہ دوسرا ٹھیکہ سفاری پارک کی کامیاب بولی 3 کروڑ 7 لاکھ روپے میں نیلام ہوا۔ تیسرا سفاری پارک کی جارجڈ پارکنگ فیس وصولی کا ٹھیکہ 65 لاکھ میں نیلام ہوا تھا ۔
تینوں کامیاب بولی نئے ٹھیکیداروں نے دی تھی، تاہم ان غیر متعلقہ ٹھیکیداروں نے نیلامی میں حصہ لینے کے لیے مقررہ فیس کا بینک پے آرڈر نہیں بنوایا تھا، دیگر ٹھیکیداروں کی شکایت پر انتظامیہ نے تحقیقات کے بعد تمام کامیاب بولی دہندہ کو مسترد کرتے ہوئے ٹھیکے منسوخ کردیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نئے ٹھیکیدار کے ایم سی کے متعلقہ افسران نے شامل کرائے تھے تاکہ ٹھیکے کی نیلامی ناکام ہوجائے اور بغیر ٹھیکے کے کھل کر من مانی کرپشن کی جا سکے کیونکہ ٹھیکے دینے سے ٹھیکیدار ٹھیکے کی بولی کے مطابق رقم کے ایم سی کے اکاؤنٹ میں جمع کرادیتا ہے۔
گزشتہ 4 ماہ سے سابقہ ٹھیکے کی معیاد ختم ہونے کے بعد کے ایم سی چڑیا گھر کی انتظامیہ خود داخلہ فیس اور چارج پارکنگ فیس جمع کر رہی ہے۔ اس حوالے سے کے ایم سی محکمہ فنانس کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ 4 ماہ سے چڑیا گھر انتظامیہ نے رقم جمع نہیں کرائی ہے۔
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ 4 ماہ میں 80 لاکھ روپے چارجڈ پارکنگ اور داخلہ فیس کی مد میں وصول کیے گئے ہیں جو سب افسران کی جیبوں میں موجود ہیں۔ چڑیا گھر میں داخلہ فیس 30 روپے فی فرد مقرر ہے جو سابق ٹھیکیدار کے دور مین 4 ماہ پہلے تک وصول کی جاتی تھی۔
ٹھیہ ختم ہوتے ہی خالد ہاشمی کی سرپرستی میں 50 روپے فیس وصول کی جارہی ہے ، دوسری طرف چڑیا گھر کے داخلہ ٹکٹ کی پرنٹنگ بھی غیر قانونی طور پر مبینہ نجی پرنٹنگ پریس سے کرائی گئی ہے جس میں 30 روپے کے ہندسے کو بد نیتی سے 50 روپے جیسا پرنٹ کیا گیا ہے۔
چارجڈ پارکنگ میں بھی فیس 30روپے موٹر سائکل پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے جبکہ 10 روپے مقرر ہے، اس طرح پہلے ہی ایک طرف چڑیا گھر آنے والے شہریوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے تو دوسری طرف کے ایم سی اکاؤنٹ میں بقول محکمہ فنانس کچھ جمع نہیں کرایا گیا۔
صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے فوری طور پر داخلہ اور پارکنگ کی فیس وصولی کے حقوق نیلام کرنے کا حکم دیا تھا ، تاہم سازشی افسران نے اسے ناکام بنا کر منسوخ کرانے اور فیس وصولی پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے غیر متعلقہ افراد کو ٹھیکیدار بنا کر پیش کیا۔
جعلی ٹھیکیداروں نے ناممکن بولی داخلہ ٹکٹ 10 کروڑ 35 لاکھ لگا کر سب کو حیران کردیا ، تاہم ان نام نیہاد ٹھیکیداروں نے پے آرڈر ہی جمع نہیں کرائے تھے جس کے باعث نیلامی منسوخ کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 31 مقدمات میں ملوث کرولا گینگ کے 2 ملزمان گرفتار
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








