ننگرہار: پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقے میں خوف کی علامت سمجھے جانے والے کالعدم دہشت گرد جماعت لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ افغان صوبے ننگر ہار کے ضلع اچین میں ہلاک ہوگئے ہیں۔
افغان میڈیا کی اطلاعات کے مطابق منگل باغ اور انکے دو ساتھیوں کو سڑک کنارے نصب بم کا نشانہ بنایا گیا۔ منگل باغ کا گروپ لشکر اسلام ضلع خیبر میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے جو کہ سیکیورٹی آپریشن کے بعد افغانستان میں جا چھپا تھا اور ننگر ہار کے صوبہ میں متحرک تھا۔
د #لشکر اسلام ترهګریزې ډلې مشر منګل باغ نن له غرمې مخکې د #ننګرهار د اچين ولسوالۍ باندر درې څېړۍ کڅونه سيمه کې د خپلو دوو ملګرو سره د دوی له لوري د ځای پر ځای شوي ماين په چاودنه کې ووژل شو، منګل باغ په ياده سيمه کې په ګڼ شمېر ترهګريزو فعاليتونو کې لاس درلود. pic.twitter.com/OvHxXIiGql
— Ziaulhaq Amarkhil (@ZiaulhaqAmarkhi) January 28, 2021
منگل باغ کا گروپ کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مل کر پاکستان میں کارروائیاں کرتا رہا ہے۔اس واقعے کی تصدیق میڈیا اطلاعات کے بعد ننگر ہار کے گورنر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کی۔
ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے لشکر اسلام کے بانی منگل باغ خیبر میں ملٹری آپریشنز کے بعد افغانستان میں روپوش تھے۔ تحریک طالبان پاکستان کی کمان سنبھالنے کے بعد مفتی نور ولی محسود نے حزب الاحرار اور جماعت الاحرار سمیت کئی دھڑوں کو تحریک طالبان پاکستان میں ضم کیا اور منگل باغ کے ساتھ ان کی گفت و شنید جاری تھی مگر تاحال وہ باقاعدہ تحریک طالبان پاکستان کا حصہ نہیں بن سکے تھے. گزشتہ کئی عرصے سے منگل باغ کی لشکر اسلام ضلع خیبر میں گرفت کمزور ہوگئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے شہر تربت میں سینما چوک کے قریب دھماکہ، ایک شخص زخمی ہوگیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








