واشنگٹن :امریکا نے ڈینئل پرل کیس کے مرکزی ملزم عمر شیخ کی رہائی کے فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سےفیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی ڈینیئل پرل کے قتل کے ماسٹر مائنڈ عمر شیخ کی رہائی کا فیصلہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کی دل آزاری کا باعث ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت پاکستان کے اس فیصلے پر شدید ناراض ہے اور ہم اس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ڈینیئل پرل قتل کے ملزمان کے رہائی کے خلاف سندھ حکومت کی اپیلوں پر سماعت کی تھی۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے حساس معلومات سربمہر لفافے میں عدالت کو دیتے ہوئے کہا کہ احمد عمر شیخ کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں، شواہد موجود ہیں لیکن ایسے نہیں کہ عدالت میں ثابت کر سکیں، ریاست کیخلاف جنگ کرنے والا ملک دشمن ہوتا ہے۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جو مواد سپریم کورٹ کو دیا وہ پہلے کسی فورم پر پیش نہیں ہوا، جو معلومات کبھی ریکارڈ پر نہیں آئیں ان کا جائزہ کیسے لیں؟ ریاست کے پاس معلومات تھیں تو احمد عمر شیخ کیخلاف ملک دشمنی کا کیس کیوں نہیں چلایا؟۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے احمد عمر شیخ کو کبھی دشمن ایجنٹ قرار ہی نہیں دیا، دہشتگردی کیخلاف جنگ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، یہ جنگ کب ختم ہوگی کوئی نہیں جانتا، شاید آئندہ نسلوں تک چلے، ریاست کا اپنے شہریوں کو ملک دشمن قرار دینا بھی خطرناک ہے۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا اور سندھ حکومت کی اپیل خارج کردی۔