کراچی :کے ڈی اے میں وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کے سابق پی ایس عبدالنبی میمن کو منیجنگ ڈائریکٹر بنوانے کی تیاری شروع ہو گئی، من پسند افسر گریڈ 19 کے عبدالنبی میمن کومحکمہ معدنیات سے غیر قانونی طور پر لا کر گریڈ 20 کے عہدے ڈی ایم ڈی محکمہ ریونیو میں او پی ایس تعینات کر دیا۔
حکومت سندھ کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے خلاف مسلسل غیر قانونی تعیناتیوںکا سلسلہ جاری ہے، غیر قانونی طور پر سندھ حکومت کے افسر کو ادارہ فراہمی و نکاسی آب میںڈی ایم ڈی ریونیو بنا دیا گیا۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کے سابق پی ایس اور محکمہ معدنیات کے گریڈ 19 میں ملازم عبدالنبی میمن کو گریڈ 20 کے عہدے پر او پی ایس تعینات کر دیا گیا ، ناصر حسین شاہ سے قریبی تعلقات کے باعث سپریم کورٹ کے تمام احکامات نظر انداز کر کے پہلے چیف سیکریٹری کے احکامات پرواٹر بورڈ میں ڈائریکٹر ریونیو ایسٹ تعینات کیا گیا جبکہ سپریم کورٹ نے متعدد بار تمام سرکاری ملازمین کو ڈیپوٹیشن پر کام کرنے اور دوسرے اداروں یا محکموں میں ضم ہو نے والے ملازمین کو واپس ان کے اپنے محکموں یا اداروں میں واپس بھیجنے کا حکم دیا تھا ۔
جہاں پر وہ بھرتی ہوئے تھے،تاہم اس پر عمل درآمد کے بجائے اس کے بر عکس ایک محکمے کے افسران کو دوسرے محکموں میں تعینات کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس طرح کی تعیناتیوں کے باعث جس محکمے میں دوسرے محکمے کے افسران کو تعینات کیا جاتا ہے تو اس محکمے کے افسران میں شدید بے چینی پھیل جاتی ہے جس سے کار کردگی متاثر ہوتی ہے، ادارہ فراہمی و نکاسی آب میں بھی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
پہلے ڈائریکٹر ریونیو ایسٹ تعینات کیا گیا تو واٹر بورڈ کے محکمہ ریونیو کے 50 کے لگ بھگ افسرانکی حق تلفی ہوئی ، مگر من پسند ہونے کا شرف حاصل کرنے والے عبدالنبی میمن کو وزیر بلدیات کی سفارش پر ڈائریکٹر ایسٹ تعینات کیا گیا جبکہ اسے واٹر بورڈ سے تنخواہ دلوانے کے لیے اسے پچھلی تاریخوں میں ماہ دسمبر کی تاریخ ڈال کر محکمہ ریونیو کے عہدے پر تنخواہ کا اجراء کر دیا گیا تھا۔