رواں سال کا پہلا ماہ، کھانے پینے کی مختلف اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئیں، سروے رپورٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

رواں سال کا پہلا ماہ، کھانے پینے کی مختلف اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئیں، سروے رپورٹ

کراچی: نئے سال کا پہلا مہینہ ختم ہونے کے ساتھ ہی مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔منافع خوروں نے صارفین کیلئے سرکاری پرائس لسٹ کو ہوا میں  اڑا دیا ہے آٹا،چینی، دالیں، گوشت، سبزیاں اور مرغی کا گوشت مہنگا ہوگیا۔

انتظامیہ بے بس ہوگئی، یوٹیلیٹی اسٹور نے بھی گھی اور تیل قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کی مشکلات میں اور بڑھا دیں۔31 جنوری 2021 کو سبزیوں کے بھاؤمیں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

ایم ایم نیوز کے سروے کے مطابق بھنڈی درجہ اول 253 روپے کلو کے بجائے 300 روپے کلو،کریلا درجہ اول 253 روپے کے بجائے 300 روپے کلو، توری کا سرکاری ریٹ 73 روپے کلو مگر یہ بھی 100 روپے کلو ہورہی ہے۔

ہری پیاز 63 روپے کلو کے سرکاری نرخ کے بجائے 100 سے 120 روپے کلو ہورہی ہے، سیم کی پھلی 73 روپے کے بجائے 100 روپے کلو فروخت ہورہی ہے، اروی 113 کے بجائے 150 روپے کلوفروخت کی جا رہی ہے۔

کراچی میں مرغی کے گوشت کی قیمت214روپے فی کلومقرر ہے جبکہ شہر میں مرغی کا گوشت320 سے 340 روپے فی کلوتک فروخت ہورہا ہے۔ بکرے کے گوشت کی سرکاری قیمت فروخت740روپے فی کلومقرر ہے جب کہ بکرے کا گوشت1200 سے1400روپے تک فی کلو میں فروخت ہورہا ہے۔

اسی طرح بڑے کے گوشت کی قیمت300روپے فی کلومقرر ہے جب کہ بڑا کاگوشت مارکیٹ میں 500سے 550روپے فروخت ہورہا ہے۔شہر بھر میں انڈوں کی قیمتوں میں تھوڑی کمی آئی ہے لیکن شہر میں کمشنر کراچی کی ریٹ لسٹ پر کہیں بھی عملدر آمد ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور پولٹری مافیا من مانی قیمتوں پر انڈے فروخت کررہی ہے۔

سال کے پہلے مہینے میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے مختلف برانڈ کے کوکنگ آئل کی قیمت میں 19 سے 27روپے فی لیٹر اورگھی کی قیمت میں 20سے 20 روپے فی کلو تک کااضافہ کردیاہے۔

دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ کمشنر کراچی اگر اپنی ریٹ لسٹ پر عملدر آمد نہیں کراسکتے ہیں تو انہیں یہ لسٹ جاری ہی نہیں کرنی چاہیے،شہر میں دودھ اور پولٹری مافیا کی من مانیاں روکنے میں شہری حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، اگر انتظامیہ سے ان مافیاؤں کو لگام نہیں دی جاتی تو اپنی نوکری سے استعفیٰ دے۔

Related Posts