برسلز : نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ اتحادی فوج کی تعیناتی سے متعلق وزیر دفاع کی گفتگو درست نہیں، نیٹوصحیح وقت سے پہلے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس نہیں نکالے گا۔
امریکا نے اپنے بقیہ ڈھائی ہزار فوجیوں کو افغانستان سے نکالنے کا وعدہ کیا تھا تاہم جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے مئی کی ڈیڈ لائن سے آگے بھی افغانستان میں موجود فوجی دستوں کے مزید قیام کے لیے دروازہ کھول دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نیٹو کے 30 ممبر ممالک کے وزراء بدھ اور جمعرات کو اعلیٰ سطح کی میٹنگ کرینگے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔
اسٹولٹن برگ نے میڈیا کانفرنس میں کہا کہ اگرکوئی اتحادی افغانستان میں نہیں رہنا چاہتا تو اس کی اپنی مرضی ہے لیکن ٹھیک وقت سے پہلے ہم افغانستان کونہیں چھوڑیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ زمینی صورتحال کا جائزہ لیتے رہیں گے اور پیشرفتوں پر بہت قریب سے نگرانی کریں گے۔
اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ ہمارا مشترکہ مقصد واضح ہے، افغانستان کو پھر کبھی دہشت گردوں کے لئے ہمارے آبائی علاقوں پر حملہ کرنے کی پناہ گاہ کا کام نہیں کرنا چاہئے۔
طالبان کو تشدد کو کم کرنا ہوگا، نیک نیتی سے مذاکرات کرنا ہوں گے اور دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون کو روکنے کے اپنے عزم پر قائم رہنا چاہئے۔