کوئٹہ: پولیس کو عوامی نیشنل پارٹی کے 5 ماہ سے لاپتہ رہنما ء اسد خان اچکزئی کی گولیوں سے چھلنی لاش مل گئی، قتل کا ملزم گرفتار، مقتول کی کار بھی برآمد کرلی گئی۔
اسد خان پارٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے چمن سے کوئٹہ آتے ہوئے 25 ستمبر 2020 کو لاپتہ ہوگئے تھے، پولیس نے تصدیق کی ہے کہ لاش ہفتے کے روز کوئٹہ کے علاقے سے ملی ہے۔
کوئٹہ پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل اظہر اکرم نے بتایا کہ اسد خان اچکزئی کے قتل کیس میں پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم اسرار احمد کو سریاب روڈ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ، ملزم سے مقتول کی کار بھی برآمد کرلی گئی ہے،انہوں نے بتایا کہ دوران تفتیش ملزم نے کار چھین کر اسد اچکزئی کوقتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے ۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ مقتول نے ملزم کو لفٹ دی جس نے انہیں کلی نوسہر سے 10 کلومیٹر دور ہلاک کردیا اور لاش کو گہری کھائی میں پھینک دیا۔
پولیس کی ایک ٹیم نے مجسٹریٹ کے ہمراہ علاقے کا دورہ کیا اور لاش برآمد کی جسے پوسٹ مارٹم کے لئے سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہےاے این پی کے مقتول رہنماء کو چمن میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
اسد خان اچکزئی اے این پی کے صوبائی صدر اور پارلیمانی لیڈر محمد اصغر اچکزئی کے کزن تھے، پارٹی کے کارکنوں نے قتل کیخلاف کوئٹہ کے منان چوک پر دھرنا دیا اور سڑک کو ٹریفک کیلئے بند کردیا۔
پارٹی نے ترجمان بلوچستان اسد خان اچکزئی کی وفات پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے،اے این پی کے سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ سوگ کے طور پر پارٹی کے تمام ضلعی ، صوبائی اور مرکزی دفاتر میں پارٹی پرچم سرنگوں رہے گا۔