اسلام آباد:تھانہ بہارہ کہو کی حدود میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے جمعیت علمائے اسلام کے مقامی رہنماء مفتی اکرام کو بیٹے اور شاگرد سمیت قتل کر دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں میں امام مسجد مفتی اکرام ،ان کا تیرہ سالہ بیٹا حبیب اور شاگرد سمع اللہ شامل ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پرنس روڈ گلی نمبر دس بہارہ کہو میں واقع مدرسہ صدیق اکبر میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس سے امام مسجد اپنے بیٹے اور شاگرد سمیت شدید زخمی ہوگئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم گئے۔واقعہ کی اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو مقامی ہسپتال منتقل کرا دیا ہے جبکہ واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔
واقعہ 27 فروری 2021ء بروز ہفتہ رات آٹھ بجے کر پچپن منٹ پر پیش آیا جب بارہ کہو میں جمعیت علماء اسلام کے مقامی رہنما سمیت تین افراد کو گزشتہ رات گولیوں کا نشانہ بنایا گیا،پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں لوحقین کے حوالہ کر دی گئی ہیں۔
جے یو آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹے گزر چکے لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، لاشوں کو غسل کیلئے ایدھی سینٹر لے جایا جارہا ہے ،غسل دینے کے بعد بارہ کہو میں لاشیں روڈ پر رکھ کر احتجاج کیا جائے گا ۔