اسلام آباد: قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ بد عنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقو م کی واپسی نیب کی اولین ترجیح ہے۔
چیئرمین نیب کی زیر صدارت نیب ہیڈکوارٹر ز میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا گیا۔اجلاس میں میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیاکہ179میگا کرپشن مقدمات میں سے63میگا کرپشن مقدمات کومعزز احتساب عدالتوں نے قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچا یا ہے جبکہ 95بد عنوانی کے مقدمات معزز احتساب عدالتوں میں زیر التوا ہیں، جن کی جلد سماعت کے لئے معزز احتساب عدالتوں میں قانون کے مطابق درخواستیں دائر کی جارہی ہیں۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ اور بد عنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقو م کی واپسی نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب نے اپنے قیام سے اب تک 714ارب روپے بدعنوان عناصر سے بر آمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں۔
نیب کے اس وقت 1230بد عنوانی کے ریفرنس ملک کی مختلف معزز احتساب عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ جنکی تقریباََ مالیت3 94 ارب روپے ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ63میگا کرپشن مقدمات جن کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا ہے۔
ا ن میں سے12میگا کرپشن کیسز میں مختلف معزز احتساب عدالتوں نے ٹھوس شواہدا ور ثبوتوں کی بنیاد پر قانون کے مطابق مجموعی طور پرملزمان کو 4.364ارب روپے کی سزا سنائی۔
چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے شاندار نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نیب یو این سی اے سی کے تحت اقوام متحدہ کا فوکل ادارہ ہے،اس کے علاوہ نیب سارک ممالک کے انسداد بدعنوانی فورم کا چیئرمین ہے۔
جبکہ چین نے نیب کے ساتھ سی پیک منصوبوں میں شفافیت اور انسداد بد عنوانی کے لئے نیب کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کئے ہیں جو کہ پاکستان کے لئے اعزاز کی بات ہے۔نیب انسداد بد عنوانی کاایک معتبر ادارہ ہے۔
ملک سے بدعنوانی کے خاتمے، اختیارات سے تجاوز، منی لانڈرنگ،سرکاری فنڈز میں خرد برد اور بڑے پیمانے پر عوام سے دھوکہ دہی کے مقدمات نیب کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ نیب کی کارکردگی اور استعداد کار کا اعتراف معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے کیا ہے۔
گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد عوام نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔نیب کی ملزمان کو سزا دلوانے کی شرح 68.88فیصد ہے جو کہ دوسرے انسداد بدعنوانی کے اداروں میں سب سے زیادہ ہے۔
نیب کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوشن کا نظام وضع کیا گیا ہے،اس کے علاوہ نیب کے مقدمات کو قانون کے مطابق نمٹانے کے لئے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری اور انویسٹی گیشن کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا گیا ہے تاکہ مشاورت سے قانون کے مطابق فیصلہ سازی کی جائے۔
نیب کی وابستگی کسی سیاسی جماعت،گروپ اور فرد سے نہیں بلکہ ریاست پاکستان سے ہے۔نیب کے تمام افسران انتہائی محنت،لگن اور قانون کے مطابق بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے اپنے فرائض کو قومی فرض سمجھتے ہیں۔ نیب نے راولپنڈی میں جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے۔
اس لیبارٹری میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے تاکہ انویسٹی گیشن افسران اور پراسیکیوٹر قانون کے مطابق مقررہ وقت میں مقدمات کی تحقیقات کے تناظر میں فرانزک لیبارٹری کی سہولیات سے استفادہ کر سکیں۔