میرا جسم میری مرضی، نعرے کی اصل حقیقت

تازہ ترین

تازہ ترین

Aurat March

میرا جسم میری مرضی ،گذشتہ عورت مارچ سے یہ نعرہ انتہائی متنازعہ بن چکا ہے،جب ہم یہ نعرہ سنتے ہیں یا اس بینر کو پڑھتے ہیں تو ہمارے ذہن میں کیا آتا ہے؟، دیسی لبرل خواتین کہتی ہیں کہ آپ کی سوچ گندی ہے ہمارے کتنے ٹھیک ہیں ، ہم سے پوچھیں ہمارا کیا مطلب ہے؟ اپنے ہی گندے دماغ سے اس کا ترجمہ نہ کریں۔

تو آئیے ان خواتین سے پوچھیں ، آپ کا کیا مطلب ہے؟۔لیکن اس سے پہلے کہ ہم پوچھیں کہ ہم کیاسوچ رہے ہیں اورہمیں کس سے پوچھنا چاہئے؟ کیا ماروی سرمد ، گل بخاری ، عاصمہ شیرازی ،غریدہ فاروقی وغیرہ سے پوچھیں؟ ۔

اس سے پہلے ہم اس نعرہ کی موجد پر ایک نظر ڈالیں تواس نعرے کی ابتداء برازیل کے ریڈ لائٹ ایریا سے ہوئی ،اس نعرے کے الفاظ تھے۔

Eu sou uma prostituta orgulhosa meu corpo minhas escolhas
( I am a proud prostitute my body my choices)

اور اگر اس کو اردو میں دیکھیں تو اس کا مطلب بنتا ہے کہ میں ایک قابل فخر طوائف ہوں اورمیرا جسم میری مرضی ہے۔

یہ نعرہ جنسی کارکنوں کے حقوق کی وکیل گیبریلا لائٹ کے ذریعہ مقبول ہوا اور دراصل یہ طوائفوں کی ایک تحریک تھی بعدازاں شمالی امریکہ کی خواتین نے اس نعرے کو کچھ ترامیم کے ساتھ نقل کیا۔ انہوں نے اس کا ترجمہ میرا جسم میری مرضی کے طور پر کیا اور ان کے اہم مطالبات تھے۔

1۔ اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دی جانی چاہئے۔
2۔اعضاء کی منڈیوں کو قانونی حیثیت دی جانی چاہئے۔
3۔ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دی جائے۔
4۔جسم فروشی کے خلاف قوانین ختم کیے جائیں۔
5۔منشیات کے خلاف جنگ کو ختم کیا جانا چاہئے۔
6۔ گناہ ٹیکس، شراب اور دیگراشیاء پر ٹیکس ختم کیا جائے۔

گذشتہ 20 سالوں سے تکنیکی ارتقاء انسانی ارتقا سے کہیں زیادہ تیز ہے اور یہی وجہ ہے کہ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ مقبول عام ہوا اور یہاں دیسی لبرل خواتین کو ٹیکنالوجی کے ذریعے مغرب میں تیزی سے عام ہونے والے اس نعرے کا پتاچلا اورانہوں نے میراجسم میری مرضی کا گمراہ کن نعرہ لگایاجو عورت کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹاتا ہے۔

اگر میں اس کا ترجمہ اس طرح کروں کہ میری زندگیاں میرا فیصلہ یا میری زندگی میراحق، اس طرح کی بات جس میں کوئی پیغام ہو اورناگوار نہ گزرے ، میرا مشورہ ہے کہ آپ مغرب کے نظریات کو حکمت سے نقل کرنے کے لئے بہتر اور پڑھے لکھے مترجم کی خدمات حاصل کریں۔

میں خواتین کے حقوق کی علمبردار ہوں تاہم میں حیران ہوں کہ دیسی لبرل خواتین نے اپنی تحریک میں ، اپنا بستر خود گرم کرلو، اپنا موزہ خود تلاش کرو، تیری سوچ گندی ہے، شادی کے علاوہ بھی بہت کام ہیں۔یہ وہ نعرے ہیں جن کا ہمارے معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ پاکستانی و ایشیائی خواتین کیلئے سب سے زیادہ ضروری مسائل کا اگر جائزہ لیں تو ہمیں درج ذیل مطالبات سامنے لانے چاہئیں۔

1 ۔عصمت دری ۔
2۔ ذہنی / جسمانی زیادتی /تشدد
3۔کم عمری کی شادی ۔
4۔بچوں کے ساتھ بدسلوکی ۔
5۔ ہراساں کرنا ، استحصال کرنا۔
6۔ تیزاب سے جلانا۔
7۔ مساوی حقوق / امتیازی سلوک۔
8۔مساوی تنخواہ ، کام کے حالات۔
9۔غیرت کے نام پر قتل ۔
10۔ شادی / طلاق کے حقوق۔

ہماری خواتین نے برازیل کے اس نعرے کی نقل کرتے ہوئے اس میں اپنے نظریات کے مطابق ردوبدل کیا لیکن اپنے اصول و ثقافتی اقدار پر غور کرنے میں ناکام رہیں۔ کیا آپ زیادہ مہذب بیانیہ لے کر نہیں آسکتیں ؟ اب خواتین کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کے بجائے آپ اپنے پلے کارڈز کے دفاع میں مصروف ہیں اور پورا پاکستان آپ پر ہنس رہا ہے۔ کیا واقعتاً خواتین کے حقوق کے لئے کام کر رہی ہیں یا ان کو نقصان پہنچا رہی ہیں؟۔

ایک شخص نے آپ کو ایک نعرہ دیا ،جنت ماں کے پیروں تلے ہے اور آپ نے برازیل کے طوائف کو چن لیا اور شرمندگی کی علامت بن گئے،ابھی بھی آپ کے پاس وقت ہے ورنہ بہت دیر ہو جائے گی اور اس کا نتیجہ آپ کے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی شکل میں سامنے آئے گا۔

Related Posts