واشنگٹن :امریکا کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان سے نیٹو افواج کی دستبرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو طالبان کے قتل عام کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔
جرمنی کے خبر رساں ادارے ڈوئچے ویلے کو انٹرویو میں 11 ستمبر کے واقعے کے بعد افغانستان میں چڑھائی کرنے والے سابق امریکی صدر جارج بش نے نیٹو افواج کے انخلا پر کڑی تنقید ہوئے اسے غلطی قرار دیا۔
جارج بش کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو افواج کے انخلا کی غلطی سے افغانستان میں خواتین اور لڑکیاں ناقابل بیان نقصان اٹھانے والی ہیں جس پر میرا دل دکھتا ہے۔
ایک بار پھر خواتین اور معصوم لوگوں کو قربان کرنے کے لیے ظالم لوگوں کے پاس اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔
امریکا کے سابق صدر نے کہا کہ جن لوگوں نے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی مدد کی انھیں ذبح ہونے کے لیے سفاک لوگوں کے سامنے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے حالانکہ یہ شہری عالمی قیادت کی جانب سے اچھے سلوک کے مستحق تھے۔
سابق امریکی صدر جارج بش نے بتایا کہ میں اور لارا بش نے افغان خواتین کے ساتھ بہت وقت گزارا اور وہ بہت خوف زدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ نہ صرف امریکی فوج بلکہ نیٹو افواج کی مدد کرنے والے اور تمام ترجمانوں کو ایسا لگتا ہے کہ بہت ہی ظالم لوگوں کے ذریعے قتل کرنے کے لیے چھوڑا گیا ہے اور اس سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کی سابق افغان صدر حامد کرزئی کو عالمی کانفرنس میں شرکت کی دعوت
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








