اسلام آباد:پاکستان نے ہمسایہ ملک افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کو اپنی میزبانی میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دے دی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ افغانستان کے استحکام و سلامتی کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔
پیغام میں وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے کچھ دیر قبل افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی سے فون پر گفتگو کی۔ پاکستان افغان مسئلے پر کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔
عالمی کانفرنس کی تفصیلات کے متعلق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ہم افغان امن عمل پر خصوصی کانفرنس کریں گے جس کی تفصیلات جلد منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی میزبانی میں عالمی کانفرنس میں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی سمیت اہم ترین افغان قیادت کو شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ اس اہم پیش رفت کے نتیجے میں افغانستان کے مسائل حل ہونے کی نئی امید بیدار ہوگی۔
مجوزہ کانفرنس میں حامد کرزئُ سمیت اہم ترین افغان قیادت کو شمولیت کی دعوت دی گئ ہے، ہمیں امید ہے کہ اس اہم ڈویلپمنٹ کے نتیجے میں افغانستان کے مسائل کے حل کی نئ امید جاگے گی،
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) July 14, 2021
خیال رہے کہ اِس سے قبل افغانستان میں طالبان کی حالیہ پیش قدمی کے نتیجے میں ہزاروں مقامی باشندے بے گھر ہو گئے۔ طالبان پر ماضی کی طرح سخت طرز عمل اور کارروائیوں کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق حال ہی میں شمالی افغانستان میں طالبان نے جب سکینہ نامی بچی کے گاؤں پر قبضہ کیا اور اسکول کو نذر آتش کر دیا، تو وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ پیدل دس دنوں کی مسافت طے کر کے پناہ کے ایک مرکز تک پہنچی۔
مزید پڑھیں: طالبان کی پیش قدمی، ہزاروں افغان اپنے ہی ملک میں بے گھر
قبل ازیں فواد چوہدری نےکہا کہ پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہورہی۔ وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ افغان امن میں شراکت دار ہوں گے جنگ میں نہیں۔
سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹوئٹر پر2 روز قبل پیغام جاری کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ افغانستان کی بدلتی صورتحال پر گہری نظر ہے، ہماری افغان پالیسی پاکستان کے مفاد میں ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان کے امن میں شراکت دار ہیں جنگ میں نہیں، فواد چوہدری
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








