راولپنڈی: سینئر صحافی اور اسپورٹس جرنلسٹ صوفی ہارون اور شاہدالحق کا کہنا ہے کہ ٹوکیو اولمپک میں ان سفارشی کھلاڑیوں کو بھیجا گیا جو کسی بھی طور پر اتنے بڑے ایونٹ میں شرکت کے اہل نہیں تھے۔ فی میل ایتھلیٹ جو شادی شدہ تھیں ان کو ایسی کنڈیشن میں بھیجا گیا جو کھیلنے کی قابل نہیں تھی۔ اولمپک ایسوسی ایشن نے میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جیوئن کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا۔
سینئر سپورٹس جرنلسٹ صوفی ہارون اور شاہد الحق نے ایم ایم نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹوکیو 2020 اولمپک میں زیادہ تر اعزازی لوگوں کو بھیجا گیا تھا۔ کھلاڑی یا اتھلیٹ صرف تین یا چار تھے جن کھلاڑیوں نے کوالیفائی کیا ہے وہ غالباً دو یا تین تھے۔ جن میں ارشد ندیم کے علاوہ دو اور پلیر ہیں باقی سب اعزازی طور پر مزہ لینے کے لیے حکومتی خرچے پر موجیں مارنے گئے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کھلاڑی کوالیفائی کر کے نہیں جائیں گے تو پھر وہ کیا نتیجہ دیں گے۔ اس کے لیے ہمیں سمجھنا ہوگا، ان لوگوں سے ہمیں کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے ۔ ویٹ لفٹر طلحہ نے خلاف توقع اچھی کارکردگی دکھائی۔ تاہم انہیں بھی یونیورسٹی کے کوٹے سے جگہ مل گئی ۔ کسی کوچ کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ مقابلوں میں کوئی پوزیشن لینے میں ناکام رہے، اس سے بڑا کھیل کے ساتھ اور ظلم کیا ہوگا۔
سینئر سپورٹس جرنلسٹ ہارون کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بدقسمتی ہے پاکستان اسپورٹس بورڈ، اولمپکس ایسوسی ایشن اور فیڈریشن کی نااہلی ہے کہ طلحہ کے ایونٹ میں کوئی کوچ نہیں تھا ، اگر کوچ وہاں پر موجود ہوتا تو وہ طلحہ کو بتاتا تو لازمی 5 سے 10 کلو وزن زیادہ اٹھا کر بہترین میڈل آسکتا تھا۔ طلحہ کے گناہ گار پاکستان اسپورٹس بورڈ، وزارت کھیل اور اولمپک ایسوسی ایشن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب جب تک کھیلوں سے اقربا پروری اور سیاست ختم نہیں کی جاتی تب تک پاکستان میں کھیل زوال پذیر رہیں گے کیونکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور فیڈریشنز کھیلوں سے مخلص نہیں ہیں۔ بہترین کھلاڑیوں کی جگہ رشتہ داروں کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ کھیلوں کے بگڑا ہوا نظام اب وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی ٹھیک نہیں کر سکتے جب تک مقتدر قوتیں نہیں چاہیں گی۔ کھیلوں میں بھی جنرلز کمان کر رہے ہیں کھیلوں سمیت کھیلوں کے گراؤنڈ بھی تباہ و برباد کر دیئے گئے ہیں۔