اسلام آباد: سپریم کورٹ نے رحیم یار خان میں مندر پر حملے کیس کے حوالے سے حکم دیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور مندر کو پہنچنے والے نقصانات کے اخراجات بھی ملزمان سے وصول کئے جائیں۔ اس واقعے کی وجہ سے ملک کی بہت بدنامی ہوئی۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے رحیم یار خان مندر حملے کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت کی، اس موقع پر آئی جی پنجاب انعام غنی ،چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے قرار دیا کہ دندناتے پھرتے ملزمان ہندوبرادری کےلیے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں میں عقل ہے نہ سوچنے کی صلاحیت۔
اس واقعہ کی وجہ سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کہ زرا سوچیں اگرمسجد شہید ہوتی تو مسلمانوں کا کیا ردعمل ہوتا؟
حکومت پنجاب کی جانب سے عدالت میں مندر پر حملے کے حوالے سے رپورٹ جمع کرائی گئی۔ اس موقع پرعدالت نے کمشنر رحیم یار خان کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 9 سال کے بچے کی وجہ سے سارا واقعہ ہوا۔ 9 سالہ بچے کو مذہب کا کیا پتہ؟ کیا پولیس والوں کے 9 سال کے بچے نہیں ہوتے؟ کیا پولیس کو 9 سالہ بچے کے ذہن کا اندازہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے تماشہ دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ 3 دن گزر گئے ایک شخص گرفتار نہیں ہوا۔ پولیس اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ندامت دیکھ کر لگتا ہے پولیس میں جوش ولولہ نہیں۔ پروفیشنل لوگ ہوتے تو اب تک معاملات حل ہو چکے ہوتے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کام نہیں کرسکتے تو انہیں ہٹا دیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم نے بھی معاملہ کا نوٹس لے لیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اپنا کام جاری رکھیں۔ قانونی معاملہ ہم دیکھیں گے۔ عدالت نے شرپسندی پر اکسانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ایک ہفتے میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے متاثرہ علاقے میں امن کمیٹی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ کیس کی مزید سماعت 13 اگست کو ہوگی۔