برطانوی وزارت داخلہ نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ویزا میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ “یوکے ہوم آفس نے محمد نواز شریف کے ویزے میں مزید توسیع سے معذرت کرلی ہے۔ ان کے مطابق “ہوم آفس نے کہا ہے کہ نواز شریف امیگریشن ٹریبونل میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ اپیل پر فیصلہ آنے تک برطانوی وزارت داخلہ کا حکم ’’ موثر نہیں ہوگا ‘‘ اور یہ کہ ’’ نواز شریف قانونی طور پر برطانیہ میں رہ سکتے ہیں جب تک اپیل کا فیصلہ نہیں ہو جاتا ‘‘۔
برطانوی وزارت داخلہ کے فیصلے میں یہ بات نہیں ہے کہ نواز شریف کو ویزے میں توسیع کیوں نہیں دی گئی ہے تاہم امید کی جاری ہے کہ فیصلے کے خلاف مسلم لیگ ن اپیل ضرور کرے گی۔ اس بات امکان بھی کم ہے کہ نواز شریف چند روز کے لیے کسی دوسرے میں رہائش اختیار کریں۔
نواز کی سزائیں
احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے 24 دسمبر 2018 کو شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں مجرم ٹھہرایا تھا اور انہیں سات سال قید کی سزا سنائی تھی ، اس کے علاوہ 1.5 ارب روپے اور 25 ملین ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
29 اکتوبر 2019 کو نواز شریف کے ڈاکٹرز ان کے دل کی پیچیدہ بیماری ، مدافعتی نظام کی خرابی اور پلیٹلیٹس کی تعداد خطرناک حد تک کم ہونے کی رپورٹ دی تھی، جس کے بعد العزیزیہ ریفرنس میں ان کی سزا کو دو رکنی بینچ نے معطل کردیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ جوکہ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل تھا نے طبی بنیادوں پر آٹھ ہفتوں کے لیے نواز کو علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی تھی۔ اجازت ملنے کے بعد سے وہ نومبر 2019 سے لندن میں مقیم ہیں۔
گزشتہ سال دسمبر میں نواز کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے دو مقدمات- ایون فیلڈ پراپرٹیز اور العزیزیہ میں اشتہاری مجرم قرار دیا تھا۔ جس کے بعد حکومت نے ان کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
فواد چوہدری کا بیان
وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کے پاس صرف دو آپشن باقی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ” پہلا آپشن یہ ہے کہ وہ پاکستانی سفارت خانے جاسکتے ہیں جہاں انہیں عارضی سفری دستاویزات فراہم کی جائیں گی ، جس کے ذریعے وہ پاکستان واپس سفر کر سکتا ہے اور ان جرائم کا جواب دے سکتا ہے جو الزامات ان پر عائد کیے گئے ہیں۔”
دوسرا آپشن یہ ہے کہ برطانوی وزارت داخلہ کے فیصلے کو چیلنج کریں تاہم ان کے پاس اس حوالے سے کوئی تدلیل نہیں کیونکہ اب وہ بیمار نہیں ہیں۔”ہم نے انہیں لندن میں چلتے پھرتے اور ریسٹورنٹس میں کھانا کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اب وہ اپنی بیماری کے بارے میں برطانوی عدالتوں سے کیا جھوٹ بولے گے۔
اختیارات کیا ہیں؟
باضابطہ طور پر نواز شریف کے پاس اب دو آپشنز ہیں۔ محکمہ داخلہ کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں اور وہ اپیل بھی ٹھکرا دی جاتی ہے تو ان کے برطانوی عدالتوں کے پاس جانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔
ایک اور آپشن ہے کہ بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کرلیں کیونکہ ان کا پاسپورٹ حکومت پاکستان نے منسوخ کردیا اور بغیر سفری دستاویزات کے وہ سفر نہیں کرسکتے ہیں، اس لیے سابق وزیر اعظم کے لیے سیاسی پناہ لینے کا ایک اچھا موقع ہے۔
اگر برطانیہ کے حکام نواز شریف کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں تو وہ ممکنہ طور پر کسی تیسرے ملک کا دورہ کر سکتے ہیں جہاں وہ غیر معینہ مدت تک قیام کر سکتے ہیں۔ تاہم ، پاسپورٹ کے بغیر ، نواز کو سب سے پہلے عارضی سفری دستاویزات کے لیے درخواست دینا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : رحیم یار خان مندر حملہ کیس، سپریم کورٹ نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








