9 روزہ لاک ڈاؤن ،پولیس کمائی میں لگی رہی، کراچی ڈاکوؤں کے حوالے،2 شہری قتل، درجنوں زخمی

تازہ ترین

تازہ ترین

Robbers killed 2 civilians, injured dozens in karachi

کراچی:31 جولائی سے 8 اگست تک 9 روزہ لاک ڈاؤن کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ڈاکوؤں نے 25 افراد کو فائرنگ کر کے زخمی اور دو افراد کو قتل کردیا۔

پولیس ایس او پی پر عملدرآمد کرانے کی آڑ میں اس بات کا تعین کرنے میں مصروف رہی کہ کون دکان کھول سکتا ہے اور کون نہیں کھول سکتا جبکہ اس دوران بعض مقامات پر پولیس کی مبینہ رضا مندی سے دکان کے اندر سے بیٹھ کر کام کرنے اور آدھا شٹر اٹھا کر کام کرنے کا دھندا بھی چلتا رہا، ٹیک اوے کی مکمل پابندی کے باوجود پولیس کی مبینہ سرپرستی میں یہ عمل بھی جاری رہا۔

مزید پڑھیں:سندھ میں آج سے لاک ڈاؤن ختم، کاروباربحال، 31 اگست تک پابندیاں برقرار

ڈاکوؤںنے ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقے بفرزون ڈی سی سینٹرل آفس کے عقب میں دن دیہاڑے منی ایکسچینج کی کیش وین پر اندھا دھند فائرنگ کر کے کیشئر اور سیکورٹی گارڈ کو موت کے گھاٹ اتار دیا جب کہ ایک سیکورٹی گارڈ کو زخمی کر کے وین میں موجود 9 لاکھ 85 ہزار روپے سے بھرا تھیلا چھین کر فرار ہوگئے، جس کا پولیس تاحال سراغ لگانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران ڈاکوؤں نے بھی اپنی بھرپور موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے ڈکیتی کے دوران جوہر موڑ، نارتھ ناظم آباد، فائیو اسٹار چورنگی، گلشن اقبال، ڈسکو بیکری، نیو کراچی، خمیسو گوٹھ، کورنگی ناصر جمپ، کرسچن کالونی، سرسید ٹاؤن، خواجہ اجمیر نگری، کورنگی 3 نمبر، غریب نواز کالونی، بلدیہ 4 نمبر، سکھن، بھینس کالونی روڈ نمبر 8، شاہ لطیف ٹاؤں سیکٹر 16، شارع نور جہاں بلاک کیو، اورنگی ٹاؤن، بہارکالونی، کورنگی 3 نمبر ، کورنگی 4 نمبر ایل ایریا، ڈیفنس فیز ٹو، پاک کالونی، جہان آباد، شاہ لطیف ٹاؤن، یوسف پلازہ بلاک 16، راشد منہاس روڈ، منگھوپیر ناردرن بائی پاس کٹ گیلانی سوسائٹی، تیموریہ، نارتھ ناظم آباد بلاک ایم اور سچل عباس ٹاؤن میں مزاحمت پر 25 شہریوں کو فائرنگ کر کے زخمی کردیا۔

Related Posts