کراچی:31 جولائی سے 8 اگست تک 9 روزہ لاک ڈاؤن کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ڈاکوؤں نے 25 افراد کو فائرنگ کر کے زخمی اور دو افراد کو قتل کردیا۔
پولیس ایس او پی پر عملدرآمد کرانے کی آڑ میں اس بات کا تعین کرنے میں مصروف رہی کہ کون دکان کھول سکتا ہے اور کون نہیں کھول سکتا جبکہ اس دوران بعض مقامات پر پولیس کی مبینہ رضا مندی سے دکان کے اندر سے بیٹھ کر کام کرنے اور آدھا شٹر اٹھا کر کام کرنے کا دھندا بھی چلتا رہا، ٹیک اوے کی مکمل پابندی کے باوجود پولیس کی مبینہ سرپرستی میں یہ عمل بھی جاری رہا۔
مزید پڑھیں:سندھ میں آج سے لاک ڈاؤن ختم، کاروباربحال، 31 اگست تک پابندیاں برقرار
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








