ہنزہ: 22 سالہ ادیبہ کے قتل کے خلاف سماجی رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے ہنزہ سے لے کر شمشال تک احتجاج مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے ان کی فرانزک رپورٹ تیار کرائی جائے اور ملزمان کو دوبارہ گرفتار کرکے تفتیش کی جائے۔
گزشتہ دنوں 22 سالہ نوبیہاتہ دلہن ادیبہ کو بے دردی سے قتل کر کے لاش دریائے شمشال کے کنارے پھینک دی گئی۔ قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم پولیس نے قتل کے شک میں ادیبہ کے سسر اور دیور کو گرفتار کرلیا ، جنہوں نے دوران تفتیش قتل اور لاش دریا کے کنارے پھینکنے کا اعتراف بھی کرلیا تھا۔
دوسری طرف عدالت نے دونوں ملزمان کو عدم ثبوت اور عینی شاہدین کے نہ ہونے کی وجہ سے ضمانت پر رہا کردیا ہے۔
ملزمان کی رہائی کے خلاف سماجی کارکنان اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ نے “گل مت” سمیت کراچی ، اسلام آباد ، گلگت اور شمشال میں بھی احتجاج کیا ہے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قتل کی جگہ سے شواہد اکٹھے کرکے ان کی فرانزک رپورٹ تیار کی جائے اور ملزمان کی ضمانت منسوخ کرکے دوبارہ کیس کی تفتیش کی جائے۔
احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی اور عورت ہیش ٹیگ بنے اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں گھریلو تشدد کے خلاف جلد از جلد قانون سازی کی جائے اور گھریلو تشدد کی متاثرہ خواتین کے لیے پناہ گاہیں بنائی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہنزہ جرائم سے پاک جگہ نہیں ہے جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ قوانین بنیں اور ان پر عملدرآمد بھی کیا جائے، تاکہ عزت کے نام پر ہونے والے قتال کا خاتمہ ہوسکے۔
احتجاجی خواتین کا کہنا تھا کہ ہم برسوں سے اپنے خلاف ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں مگر ہمارا مذاق بنایا جاتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہوگا ہم اپنے حقوق کے لیے جاگ اٹھیں ہیں اور اب ہم اپنے حقوق لے کر رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان کسی ملک کے خلاف کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، ترجمان طالبان
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








