کراچی:پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے میاں ناصر حیات مگوں صدر ایف پی سی سی آئی اور چیئرمین ایس سی اوبزنس کونسل پاکستان نے تاجکستان کے شہر دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کی بزنس کونسل کے بورڈ اجلاس سے خطاب کیا۔
اس اجلاس میں تمام ممبر ممالک کے صدورو چیئر مینوں نے شرکت کی جس میں پاکستان، چین، روس، بھارت، قزاقستان، کرغیزستان، ازبکستان اور تاجکستان شامل تھے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نےایس سی اوکے طاقتور بلاک کے اندر معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے لبرلائزیشن کے مسائل اٹھائے۔ انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری اور ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت گیس پائپ لائن منصوبے کی اقتصادی اور تجارتی صلاحیت پر بھی روشنی ڈالی۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر نے اقتصادی بلاکس کے ذریعے علاقائی اور ریجنل تجارت کی حقیقی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے بزنس کونسل کی جانب سے تیار کیے جانے والے دوطرفہ، علاقائی اور کثیرالجہتی روابط کو سراہا؛ جس طر یقے سے گزشتہ چند دہائیوں میں دیگر اقتصادی بلاکوں نے حاصل کیا ہے اوراب ایس سی اوبھی تمام اقتصادی فوائد کو کیش کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کثیر الجہتی اور ہائی پروفائل ایونٹ کے انعقاد اور بلاک کے آٹھ ممالک کو ایک ساتھ لانے پر منتظم کی تعریف بھی کی۔ایف پی سی سی آئی کے تجربہ کار بزنس لیڈر اور کنوینر انٹرنیشنل فورمز امجد رفیع نے تاجکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی کوششوں کو سراہا جس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک کے درمیان کورونا کے تناظر میں مائیگریشن کے چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایونٹ کے دوران،ایک اوربین الاقوامی کانفرنس میں سمارٹ سٹی کے مسائل، امکانات اور فوائدکے تنا ظر میں ایس سی او سے بہتر ین شہروں اوردارالحکومتوں کے مابین تعاون اور تجربات کے تبادلے پر منعقد ہوئی جس میں شاہد احمد خان، ڈائریکٹرFS&R (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے اسمارٹ سٹیز آف پاکستان (لاہوراور اسلام آباد) پرپریزنٹیشن دی جوکہ مستقبل میں ایکوفرینڈلی وینچر ہونگے۔
مزید پڑھیں:ہینگ ٹونگ77ریسکیو کے دوران این ڈی ایم سی کا کردار قابل تعریف ہے، اسماعیل ستار
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








