دوشنبے: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کے پناہ گزینوں کو تحفظ دینے کیلئے عالمی برادری کو آگے آنا ہوگا، افغانستان کو تنہا چھوڑنے کے نتیجے میں مختلف بحران ایک ساتھ پیدا ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے آج تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 20ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اس ملک کو اپنے حال پر نہیں چھوڑ سکتے۔ عالمی برادری آگے آئے اور افغانستان کے ساتھ کھڑی ہو۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان کو عالمی تعاون چاہئے، پناہ گزینوں کو تحفظ دینے کیلئے عالمی برادری آگے آئے، انسانی بحران، اشیائے ضروریہ اور خوراک سمیت دیگر چیلنجز پر قابو پانا ہے۔ ہم نے افغانستان سے تعلقات پر ہمیشہ یکساں مؤقف کا مظاہرہ کیا ہے۔
سربراہی اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک افغانستان میں امن چاہتا ہے۔ ملک کی خودمختاری کی عزت کرتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ افغان عوام اپنے فیصلے خود کرسکیں۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے۔
خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی۔ ہمارا جنگ میں اہم کردار رہا۔ پاکستانی معیشت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑا نقصان ہوا۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مسئلۂ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے جبکہ پاکستان آزاد و خودمختار فلسطین کی بھی حمایت کرتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے میزبان تاجکستان کے صدر کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم سرمایہ کاری، روابط کے فروغ اور تجارتی روابط کیلئے اہم پلیٹ فارم ہے۔ خطے کے ممالک کو عالمی چیلنجز سے مل کر نمٹنا ہوگا۔ کورونا کے باعث دنیا کو معاشی مسائل درپیش ہیں۔ پاکستان وسط ایشیائی ممالک کے روابط بڑھانا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلی، گرین ہاؤس افیکٹ اور موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان نے بہتر ماحول کو فروغ دینے کیلئے شجر کاری مہم کا آغاز کیا۔ ملک کے ہر اس حصے میں پودے لگائے گئے جہاں ہریالی نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں سمندری ہوائیں بند، شدید گرمی کی پیشگوئی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








