اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان رواں ماہ کی24تاریخ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چھہترویں اجلاس سے آن لائن خطاب کریں گے جو دنیا کا سالانہ سب سے بڑا سفارتی اجتماع ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے یہ بات نیویارک میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کو ایک انٹرویو میں کہی۔منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھرپور شرکت کرے گا۔
انہوں نے کہا توقع ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے پالیسی بیان میں اہم عالمی اقتصادی اور سیاسی امور پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔
منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان اجلاس کے دوران بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، افغانستان کو غیرمستحکم کرنے کے اقدامات، اسلام کے خلاف بڑھتے ہوئے پروپیگنڈے کی روک تھام۔
اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں کو روکنے اور ترقی پذیر ملکوں کو درپیش معاشی مسائل حل کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ذاتی طور پر اسمبلی کے اعلیٰ سطح کے ہفتے کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم کے ورکنگ گروپ کے اجلاس اور سلامتی کونسل میں اصلاحات کے بارے میں متفقہ گروپ کے وزارتی اجلاس سمیت متعدد پروگراموں میں شرکت کریں گے۔
وزیر خارجہ اپنے ہم منصبوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے عہدیداروں سے متعدد دوطرفہ ملاقاتیں، تھنک ٹینک اور پاکستان برادری، تاجروں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے خطاب کریں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جمعرات سے نیویارک میں شروع ہو رہا ہے۔کورونا وباء کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے رکن ممالک کو پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغامات بھیجنے کی امریکی درخواست کے باوجود 83 ممالک کے سربراہان، 43ممالک کے وزرائے اعظم، تین نائب وزرائے اعظم اور 23وزرائے خارجہ منگل کو شروع ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خود خطاب کریں گے۔
اعلیٰ سطح کے اجلاس میں افغانستان، ماحولیاتی تبدیلی اور کورونا وائرس کے بحران پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جہاں عالمی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد ذاتی طور پراور آن لائن شرکت کر رہی ہے۔
رواں سال اجلاس کا موضوع ہے ”کورونا وائرس سے بحالی، پائیدار تعمیرنو، کرہ ارض کی ضروریات پر ردعمل، لوگوں کے حقوق کا احترام اور اقوام متحدہ کی تجدید نو کے حوالے سے امید کے ذریعے لچک پیدا کرنا“۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کا مشن پاکستان کو غربت سے پاک فلاحی ریاست بنانا ہے، شوکت ترین
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








