کراچی: سندھ دھرتی کے عظیم صوفی سید عبداللہ شاہ غازی کا مزار 55روز کی طویل بندش کے بعد زائرین کیلئے کھول دیا گیا۔
مزار کھلنے کی اطلاع ملتے ہی ہزاروں شہری مزار پر پہنچ گئے،جہاں عقیدتمند فرط جذبات سے مزار سے لپٹ کر رونے لگے اس دوران رقت انگیز مناظر دیکھ کر ہر آنکھ پر نم ہو گئی۔
حکومت سند ھ کی جانب سے کرونا کے باعث سندھ بھر میں صرف محکمہ اوقاف کے زیر انتظام 98مزارات کو 26جولائی کو بند کیا گیا تھا اس دوران حکومت نے نہ تو لعل شہباز قلندر، سید عبداللہ شاہ غازی، سید مصری شاہ غازی۔ سید نورعلی شاہ المعروف نوری بابا کے عرس کے انعقاد کی اجازت دی اور نہ ہی زائرین کی مزارات تک رسائی کو ممکن بنایا۔
حکومت نے اس ضمن میں مذہبی جماعتوں کے احتجاج کو بھی مسترد کر دیا، حکومت نے 15روز قبل کراچی و حیدر آباد کے سوا سندھ بھر کے مزارارت کو کھولنے کی ہدایت کی، تاہم 15ستمبر کو کراچی و حیدر آباد کے مزارارت متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی مشاورت سے کھولنے کا حکم دیا۔
اس کے باوجود مزارارت 4 روز کی تاخیر سے کھولے گئے اتوار کے روز کراچی میں محکمہ اوقاف کے زیر انتظام 28میں سے صرف 3مزارات درگاہ سید عبداللہ شاہ غازی، درگاہ سید مصری شاہ، درگاہ سید نور علی شاہ تین ہٹی کھولی گئیں دیگر 25 مزرارت نہ کھولے جا سکے۔
اتوار کی صبح سید عبداللہ شاہ غازی کا مزار کھولنے کی اطلاع ملتے ہی کراچی کے شہری بڑی تعداد میں مزار پر پہنچ گئے جہاں رش کنٹرول کر نے کیلئے پولیس کی اضافی نفری منگوانا پڑی۔
زائرین اپنے محبوب ولی کی تربت سے لپٹ گئے اور زار و قطار روتے نظر آرہے تھے، اس دوران بڑے پیمانے پر لنگر و نیاز بھی تقسیم کی گئی۔
مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا شاہ عبدالطیف بھٹائی کے عرس کے موقع پرعام تعطیل کا اعلان
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








