کراچی:گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقرکا کہنا ہے کہ مالی سال 2019 میں جاری کھاتوں کا خسارہ بہت زیادہ تھا۔ بجٹ خسارہ 2019 میں 9فیصد تھا۔ پاکستان کے میکرو اکنامک انڈیکیٹرز خراب ہورہے تھے۔
انہوں نے لیڈرز ان اسلام آباد سمٹ سے خطاب میں کہاہے کہ جب یہ انڈیکیٹر خراب ہوتے ہیں تو امداد اور قرض دینے والے ادارے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
اُس وقت بھی دیگر ادارے پیچھے ہٹ گئے تھے اور ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ آئی ایم ایف پروگرام کیلیے مشکل فیصلے لینا پڑتے ہیں۔ جون 2019 سے مارچ 2020 تک آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل کیا اور معیشت کو مستحکم کیا۔
اس دوران پاکستان اسٹاک مارکیٹ 30 فیصد بڑھی۔ اسٹاک مارکیٹ اشارہ ہوتی ہیں کہ مستقبل کے حوالے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھاہے۔ جب ہم معیشت پر قابو پارہے تھے کہ کورونا آگیا۔
لیکن حکومت نے این سی او سی کے ذریعے اسے اچھی طرح کنٹرول کیا۔۔اسٹیٹ بینک نے معیشت کو سپورٹ کے اقدامات کیے۔ایک سال میں بزنس اور گھروں کے لیے 2ہزار ارب روپے فراہم کیے۔
اسٹیٹ بینک نے 240 ارب روپے سستے قرض ملازمت برقرار رکھنیکے لیے دیے۔ کورونا کی وجہ سے ہماری معیشت نیچے جارہی تھی لیکن گزشتہ مالی سال معاشی ترقی کی رفتار 4 فیصد رہی۔
4فیصد جی ڈی پی گروتھ کا مطلب ہے کہ افراط زر سے 4فیصد زیادہ رفتار پر لوگوں کی آمدنی بڑھی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج زرمبادلہ ذخائر 20 ارب ڈالرز کے ہیں جب کہ نیٹ انٹرنیشنل ذخائر 16 ارب ڈالرز سے زائد بڑھ گئے ہیں۔
ہماری جی ڈی پی ایک اچھی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ ترسیلات زر میں 21 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال ترسیلات 6 ارب ڈالرز بڑھ گئیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاونٹ میں 2.3 ارب ڈالرز آچکے ہیں۔
مئی سے اب تک ایکس چینج ریٹ میں تبدیلی سے کرنٹ اکاونٹ خسارہ بہت کم ہوگیا ہے۔ اگرایکس چینج ریٹ بروقت تبدیل نہ ہوتا تو کرنٹ اکاونٹ خسارہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں تبدیلی کرکے طلب کو کم کیا ہے۔ڈیجیٹائزیشن ملک میں تیزی سیاپنایا جارہا ہے۔موبائل فون کے ذریعے لین دین سالانہ 100 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج،سرمایہ کاروں کے59ارب روپے سے زائد ڈوب گئے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








