لندن: برطانیہ کی ایک عدالت نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کو منی لانڈرنگ کے الزامات سے بری کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق این سی اے نے بینک اکاؤنٹس کی تحقیقاتی رپورٹ ویسٹ منسٹر عدالت میں پیش کی جس میں قرار دیا گیا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور ان کا خاندان منی لانڈرنگ اور کرپشن کا مجرم نہیں ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اور ان کا خاندان پاکستان ، دبئی اور برطانیہ میں منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں شہباز شریف کے 20 سال پرانے بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا گیا لیکن کرپشن ، منی لانڈرنگ یا مجرمانہ سرگرمیوں کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔
برطانوی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ چونکہ شہباز اور سلیمان کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہو سکے اس لیے پہلے منجمد کرنے کے احکامات کو معطل سمجھا جائے۔
این سی اے نے حکومت پاکستان کی درخواست پر شہباز شریف اور اس کے خاندان کے خلاف تحقیقات شروع کی تھی۔ دسمبر 2019 میں عدالتی حکم پر ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے تھے۔
اثاثہ بازیابی یونٹ (اے آر یو) نے 11 دسمبر 2019 کو برطانیہ کی حکومت کو ایک خط لکھا تھا جس میں اس نے سلیمان شہباز اور شہباز شریف کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات لگائے تھے۔
خط میں اے آر یو نے کہا تھا کہ شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے پاکستان میں متعدد کیسوں میں ملوث ہیں جو منی لانڈرنگ اور بدعنوانی سے متعلق ہیں ، انہوں نے مزید کہا تھا کہ دونوں افراد “دوہرے جرائم” میں ملوث ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : کالج میں مسلح افراد کے گھسنے کا معاملہ سلجھنے کے بجائے مذید الجھ گیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








