جے یو آئی کی جانب  سے ماڑی پیٹرولیم گھوٹکی کی من مانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

تازہ ترین

تازہ ترین

جے یو آئی کی جانب  سے ماڑی پیٹرولیم گھوٹکی کی من مانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
جے یو آئی کی جانب  سے ماڑی پیٹرولیم گھوٹکی کی من مانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

گھوٹکی: جے یو آئی کی جانب سے ماڑی پٹرولیم گھوٹکی کی من مانیوں کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ گھوٹکی میں ماڑی پٹرولیم کمپنی کے عوام دشمن اقدامات کے خلاف جمعیت علماء اسلام ضلع گھوٹکی کے مطالبات پیش کردیئے ہیں۔

مولانا ناصر محمود سومرو نے کہا کہ ماڑی پیٹرولیم کمپنی میں مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے، سفارشی بھرتیاں ختم کرکے میرٹ پر ملازمتیں دی جائیں۔ سپریم کورٹ کے ماڑی پٹرولیم پر فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے۔ پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر نکلنے والے گیس کے کنویں ہیں، گیس کے کنوؤں سے مقامی افراد کو کو گیس کی فراہمی یقینی بنائے جائے۔ ان ذخائر کی آمدن کا پانچ فیصد مقامی علاقوں میں خرچ کیا جائے، بنیادی زندگی کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

گھوٹکی میں معیاری تعلیم اور علاج کے معیار اسپتال اور اسکول تعمیر کیے جائیں۔ زہریلے پانی کے استعمال سے پیدا شدہ بیماریاں کا علاج کیا جائے۔ شہر میں ہیپا ٹائٹس بی ، سی ، کینسر اور اپینڈکس  کی بیماریاں پھیل رہی ہیں، علاقہ مکینوں کو پینے کا صاف و شفاف پانی مہیا کیا جائے۔ ٹوٹے اور خستہ حال روڈوں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔ ڈیلی ویجز پے کام کرنے والے مزدوروں کو پرمنٹ کیا جائے۔

جے یو آئی ضلع گھوٹکی کے امیر مولانا محمد اسحاق لغاری و دیگر کی قیادت میں ماڑی پیٹرولیم کمپنی کے گیٹ پر دھرنا، دھرنا میں مولانا ناصر خالد محمود سومرو امیر جے یوآئی لاڑکانہ کی خصوصی شرکت، اپنے بنیادی حقوق کی خاطر عوام گھروں سے نکل چکے ہیں۔ ماڑی پیٹرولیم کمپنی ہوش کے ناخن لے, ایسا نہ ہو کہ آپ کو فیلڈ میں جانے کا راستہ بھی نہ ملے، عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملنے تک جدوجہد جاری رکھیں گے، قدرتی وسائل پیٹرول ، گیس سے مالامال ضلع گھوٹکی سے سوتیلی ماں کا سلوک بند کیا جائے۔

مولانا ناصر خالد محمود سومرو صاحب نے مزید کہا کہ گھوٹکی کی صرف ایک پیٹرولیم کمپنی ماڑی پور میں تقریبا 150 سے زائد پیٹرول اور گیس  کے کنوین موجود ہیں، جبکہ اسکے علاوہ ضلع گھوٹکی میں قادر پور گیس فیلڈ،  FFC کھاد کمپنی ، اینگرو کھاد کمپنی ، FFC پاور ہاؤس ، لیبارٹری پاور ہاؤس، اینگرو پاور ہاؤس، 5 سے زائد شوگر ملز موجود ہیں مگر پھر بھی گھوٹکی ضلع بنیادی سہولیات صحت، صفائی، تعلم سے محروم ہے، اور ان تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کسی بھی لوکل اور سندھی نوجوان کو روزگار نہیں دیا جا رہا ہے. چپڑاسی بھی دوسرے صوبوں سے بھرتی کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گھوٹکی سے پیدا ہونے والی آمدنی کا 50 فیصد حصہ گھوٹکی پر خرچ کیا جائے اور چپڑاسی سے لیکر اعلی افسران کی پوسٹ پر پڑھے لکھے سندھی نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے، احتجاج میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ گیس کی نعمت سے مالامال گھوٹکی ضلع کے متعدد گاؤن اب بھی گیس سے محروم ہیں جس کو فوری گیس سہولت سے مستفیض کیا جائے، اگر گھوٹکی سے نکلنے والے قدرتی وسائل گھوٹکی پر خرچ نہیں ہوئے تو اس تحریک کو مزید متحرک اور فعال کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : برطانوی عدالت نے شہباز شریف اور خاندان کو منی لانڈرنگ کے الزامات سے بری کردیا

Related Posts