اسلام آباد: ایکسائز آفس کے عملے نے دوران ٹرانسفر ٹیوٹا کرولا جی ایل ائی 2010 ماڈل گاڑی پکڑ لی ہے۔ ایکسائز آفس نے شہریوں کی سہولت کے لئے مختلف شاہراہوں پر پارکس پر گاڑیاں رجسٹرڈ ٹرانسفر اور ٹوکن ٹیکس جمع کرانے کی سہولت فراہم کر رکھی ہے۔
ایکسائز انسپکٹر حبیب الرحمان نے دوران ٹرانسفر گاڑی کو چیک کیا تو گاڑی کا چیسیز نمبر ٹمپر پایا گیا تو ایکسائز انسپکٹر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گاڑی قبضے میں لے لی۔
ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایکسائز انسپکٹر حبیب الرحمان نے بتایا کہ ہم نے گاڑی سرکاری تحویل میں لے لی ہے۔ ہم خریداروں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کرتے، کیونکہ خریدار کے ساتھ پہلے ہی فراڈ ہو چکا ہوتا ہے ہم گاڑی کی لیبارٹری کراتے ہیں۔ فرانزک رپورٹ کے بعد ہم گاڑی کو بحق سرکار ضبط کر لیتے ہیں اور گاڑی ویئر ہاؤس میں پڑی گل سڑ جاتی ہے۔
گاڑی کے خریدار نے ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے ایکسائز کی ویب سائٹ پر جا کر اپنی تسلی کی گاڑی کا انجن نمبر چیسیز نمبر وہی تھا جو گاڑی پر درج تھا میں نے اپنے علاقے بنوں کے رہائشی سے گاڑی خریدی تھی میں یہاں جب گاڑی اپنے نام ٹرانسفر کرانے آیا تو مجھے یہاں آکر پتہ چلا کہ میرے ساتھ فراڈ ہو چکا ہے۔
انسپکٹر ایکسائز نے بتایا کہ نوسرباز دھوکہ باز ایکسائز آفس کی ویب سائٹ سے اوریجنل انجمن نمبر چیسیز اٹھاتے ہیں جو اصلی گاڑی کی ہوتی ہے مثلا رجسٹریشن نمبر سمارٹ کارڈ بھی اوریجنل کی طرح کا بنا لیتے ہیں جب بھی گاڑی خریدیں ایکسائزآفس آئیں گاڑی کی فائل نکلوا کر اچھی طرح سے چیک کریں جب ایکسائز آفس سے تمام کاغذات کی تصدیق ہو جائے تو پھر گاڑی خریدیں۔ کیونکہ اگر بغیر کاغذات کی تصدیق کے گاڑی خریدیں گے تو خریدار کے ساتھ دھوکا ہو جائے گا اس کے لئے ہم باقاعدہ ایکسائز آفس میں علیحدہ کاؤنٹر بنایا ہوا ہے۔ ڈائریکٹر ایکسائز بلال اعظم خان نے ہمیں واضح ہدایات دے رکھی ہیں کہ چوری کی گاڑی ٹمپر گاڑی کو فوری طور پر سرکاری تحویل میں لیا جائے اور نوسربازوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : جے یو آئی کی جانب سے ماڑی پیٹرولیم گھوٹکی کی من مانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








