شیراز قتل کیس میں گرفتار بے گناہ قاری مختار اعوان رہا

تازہ ترین

تازہ ترین

Qari Mukhtar Awan released in Shiraz murder case

ہری پور:نعیم خان کالونی میں 8 ستمبر کو ہونے والے قتل کے مقدمہ میں مقتول کے قریبی عزیز بابر اعوان کی ایما پر اٹھائے گئے قاری مختار احمد اعوان 20 روز بعد ہری پور سینٹرل جیل سے رہا ہو گئے ۔

ہری پور تھانہ سٹی کے انوسٹی گیشن افسر ساجد فاروق نے سنجلیالہ کے علمی و مذہبی خاندان سے تعلق رکھنے والے قاری مختار اعوان کو 19 اکتوبر کو جامع مسجد مونن سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد پولیس نے 20 اکتوبر کو متعلقہ عدالت میں پیش کر کے دو روزہ ریمانڈ لیا تھا ، بعد از اں ریمانڈ قاری مختار اعوان کو عدالت میں پیش کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

جس کے بعد قاری مختار اعوان کے وکیل گل شرین خان جدون نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل بے گناہ ہے ، مدعیہ مقدمہ نے جعلسازی کرتے ہوئے مقتول کے رشتہ دار بابر اعوان کے پریشر میں آ کر امام مسجد کو اس کیس میں پھنسانے کی کوشش کی ہے ، جبکہ انوسٹی گیشن آفیسر باوجود بابر اعوان کی دوستی کے مختار اعوان سے دو روزہ ریمانڈ میں کوئی بھی بات نہیں ثابت نہیں کر سکا ۔ جس کی وجہ سے موکل مختار اعوان کی ضمانت منظور کی جائے ۔

اس دوران مدعیہ اور مقتول کے ورثاء تین تاریخوں میں عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے جب کہ گزشتہ پیر کو مدعیہ نے اپنا وکیل تبدیل کر دیا۔

جس کے بعد عدالت میں تاخیری حربہ استعمال کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے نئی تاریخ لینے کی کوشش کی ۔ جس پر عدالت نے مدعیہ کے وکیل کو فی الفور وکالت نامہ جمع کرانے کا حکم دیا ۔ جس کے بعد بدھ کو پہلی ہی سماعت پر قاری مختار اعوان کے وکیل گل شرین خان جدون نے بحث کر کے ضمانت کنفرم کرا لی تھی۔

مزید پڑھیں:کراچی میں ڈاکو راج، ہزاروں شہری لٹ گئے، سیکڑوں قتل

جس کے بعد جمعہ کو 2 لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کے بعد قاری مختار احمد اعوان کو رہا کر دیا گیا ہے ۔ قاری مختار اعوان کا کہنا ہے کہ وہ جامع مسجد مونن کے امام اور مدرس ہیں ۔ جہاں وہ ڈیڑھ سو سے زائد طلبہ کو ناظرہ اور قرآن کریم حفظ کرا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھ پر جنہوں نے سنگین الزام لگایا ہے میں ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں کہ کیونکہ انہوں نے قرآن کریم کی توقیر کی ہے۔ اس پر اللہ تعالی ہی ان سے بدلے لے گا۔

گاؤں سنجلیالہ سے تعلق رکھنے والے قاری مختار اعوان رہائی کے بعد ایک بار پھر سنجلیالہ میں بحث چھڑ گئی ہے کہ مقتول شیراز کے ورثا آخر بے گناہوں کو قید کرانے کے بجائے اپنی بغل میں بیٹھے اصلی قاتلوں کو گرفتار کیوں نہیں کراتے۔

Related Posts