ناظم جوکھیو کے قتل کیس میں رکن سندھ اسمبلی جام اویس کا3روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

تازہ ترین

تازہ ترین

Nazim Jokhio murder case: Police granted 3-day remand of PPP MPA

کراچی:ناظم جوکھیو کے قتل کیس میں پیپلز پارٹی کے گرفتار رکن سندھ اسمبلی جام اویس کو عدالت نے 3روزکے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ،سندھ حکومت نے قتل کی شفاف تحقیقات کیلئے 8رکنی جے آئی ٹی تشکیل دے دی ،کمیٹی کو روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جمعہ کی صبح کراچی کی ملیرکورٹ میں میمن گوٹھ میں غیرملکیوں کو شکار سے روکنے پر نوجوان کے قتل کیس کی سماعت ہوئی ،پولیس نے ممبرصوبائی اسمبلی جام اویس کو عدالت میں پیش کیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مقتول ناظم جوکھیو کے ورثا نے ایم پی اے جام اویس کونامزدکیاہے، ملزم جام اویس نے گزشتہ روزرضاکارانہ طورپرگرفتاری پیش کی جبکہ پہلے سے گرفتار کیے گئے 2 ملزمان حیدر اور میر علی فارم ہائوس کے ملازم ہیں،ملزمان سے تفتیش،ساتھیوں سے متعلق معلومات کے لئے ریمانڈ دیا جائے۔

اس موقع پر جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر نے آئندہ سماعت پر ناظم جوکھیو قتل کیس کی پیشرفت رپورٹ طلب کرلی اور ایف آئی آر میں نامزد ایم پی اے جام اویس کے علاوہ گرفتار دیگر 2 ملزمان کو 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے ناظم جوکھیو کے قتل کی شفاف تحقیقات کیلئے 8رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی دے ہے اور کمیٹی کو روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پولیس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی جام اویس نے گزشتہ رات گرفتاری دی جبکہ دیگر ملزمان کو ابھی گرفتار کیا جانا ہے۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ایسٹ ثاقب اسماعیل میمن کے مطابق اعلی حکام کی ہدایت پر ایس ایس پی ملیر عرفان علی بہادر کی سربراہی میں پولیس افسران کی 8 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو گرفتار ملزمان سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کرے گی۔

مزید پڑھیں:

میرے مہمانوں کی ویڈیو کیوں بنائی؟ نوجوان وڈیرہ شاہی کی بھینٹ چڑھ گیا

ناظم جوکھیو کا اندوہناک قتل، رکنِ صوبائی اسمبلی نے گرفتاری دیدی

ناظم جوکھیو کون تھے اور ان کوقتل کیوں کیا گیا؟

ٹیم کے دیگر ممبران میں ایس پی انویسٹی گیشن ملیر عارب مہر، ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ الطاف حسین، ڈی ایس پی میمن گوٹھ کنور آصف سرفراز، ڈی ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ ون یوسف جمال، انسپکٹر انویسٹی گیشن فریدالدین، ایس آئی او سچل مختار پنور اور ایس آئی او شاہ لطیف ٹائون غلام مجتبی باجوہ شامل ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم نے فوری طور پر کام شروع کر دیا ہے۔واضح رہے کہ ناظم جوکھیو کو سو شل میڈیا پر بیان وائرل کرنے پر قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد مقتول کے بھائی نے ایم پی اے جام اویس سمیت دیگر کو مقدمے میں نامزد کیا۔

مقتول کے لواحقین سے گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے رابطہ کیا تھا جبکہ صوبائی وزیرسعیدغنی اورامتیازشیخ نے بھی لواحقین سے ملاقات کی ، جس میں مقتول کے لواحقین نے یقین دہانی پراحتجاج چوبیس گھنٹے کیلئے موخر کر دیا تھا۔

اس سے قبل ناظم جوکھیو کے قتل کے واقعے میں ملوث دو افراد کو گزشتہ رات حراست میں لیا گیا تھا، ایس ایس پی ملیرکے مطابق حراست میں لیے گئے دونوں افراد جام اویس کے گن مین ہیں، تاہم وہ مقدمے میں نامزد نہیں ہیں۔

Related Posts