سندھ میں تبدیلی کا ماحول تیار ،عوام متبادل قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں ،شاہ محمود قریشی

تازہ ترین

تازہ ترین

لیک کی گئی آڈیو پلانٹڈ اور فیک نیوز ہے،شاہ محمود قریشی
لیک کی گئی آڈیو پلانٹڈ اور فیک نیوز ہے،شاہ محمود قریشی

کراچی:و زیر خارجہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے کہاہے کہ سندھ میں تبدیلی کا ماحول تیار ہے،عوام صوبائی حکومت کی بیڈ گورننس،کرپشن اور انتقامی کارروائیوں سے عاجز آچکی ہے ،عوام متبادل قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

ان خیالا ت کا اظہا رانہوں نے گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ سندھ میں اپوزیشن کو سخت ناموافق حالات کا سامنا ہے اور سخت دبائو کے باوجود وہ اپنی نمائندگی کا حق ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے تمام شہری علاقوں میں آبادی کا ایک بڑا حصہ پی پی سے نظریاتی اور ذہنی مطابقت نہیں رکھتا اور متبادل قیادت کی تلاش میں ہے۔

انہوں نے کہا سندھ میں گورننس کا فقدان ہے گزشتہ طویل عرصہ سے حکومت ہے اور انہیں بھرپور مواقع ملے لیکن انہوں نے عوام کو مایوس کیا۔

سندھ کے دیہی علاقوں میں متبادل قیادت پیش کی گئی تو ایک بہت بڑا طبقہ ہمارے ساتھ جڑنے کے لئے تیار ہے۔ عمرکوٹ اور مٹھی کے حالیہ جلسے اور ان میں عوام کی پھرپور شمولیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ عوام پی ٹی آئی کی طرف دیکھ رہے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا خیبرپختون خواہ میں بھی عوام نے عمران خان کے اصولی موقف کو درست تسلیم کیا۔جہاں پر دوسری بار پی ٹی آئی کو حکومت ملی۔ پنجاب میں پی ٹی آئی متبادل قیادت کے طور پر ابھری کر سامنے آئی۔

جنوبی پنجاب جسے پی پی کا گڑھ سمجھتا جاتا تھا وہاں سے بھی پی ٹی آئی نے کامیاب حاصل کی۔پی ٹی آئی اب سندھ میں بھی داخل ہو چکی ہے اور2023کے انتخابات میں سندھ میں بھی پی ٹی آئی کو واضح اکثریت ملے گی۔ پی ٹی آئی اپ سندھ میں بھی موجود ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ منظم ہو کرعوام سے جڑی رہے۔

انہوں نے کہا سندھ میں پی ٹی آئی کے حامیوں کو انتقامی کاررائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے عوام ان کے مظالم سے تنگ آچکی ہے۔

مزید پڑھیں:حکومت غریبوں کیلئے 450 ارب کا خسارہ خود برداشت کررہی ہے۔وزیراعظم

انہوں نے حلیم عادل شیخ اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا آپ ہراول دستے کا کردار کر رہے ہیں اور سخت حالات میں بھی امید کا دیا روشن رکھا ہوا ہے ارباب رحیم غوث علی شاہ اور مظفر علی شاہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ سندھ سے دیگراہم شخصیات کی پی ٹی آئی میں شمولیت متوقع ہے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سندھ اسمبلی میں قائمہ کمیٹیوں اور پبلک اکانٹس کمیٹی و دیگر پارلیمانی فورمز پر حزب اختلاف کو نمائندگی نہ دیئے جانے کو جمہوری روایات کی نفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی پی اور ن لیگ کے دوران میثاق جمہوریت میں طے ہوا تھا کہ پبلک اکانٹس کمیٹی کا سربراہ لیڈر آف اپوزیشن ہوگا شہباز شریف اور ان کے بعد رانا تنویر اس عہدے پر فائز رہے۔

کے پی کے اور بلوچستان میں بھی یہی ایسا ہوا ہے۔ جمہوریت کا درس دینے والوں پر لازم ہے کہ قائدہ پڑھانے سے پہلے خود قائدہ پڑھیں اور اس پر عمل کریں انہوں نے سندھ کے قائد ایوان سے مطالبہ کیا کہ جمہوری آئینی و پارلیمانی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے حزب اختلاف کو قائمہ کمیٹیوں مناسب نمائندگی دی جائے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی بھی قائد حزب اختلاف کو دی جائے۔ انہوں نے یقین دھانی کرائی کہ وفاقی سطح پر اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ایسا معاملہ اپنائیں گے۔

Related Posts