خواتین کی مالی آزادی کا بڑا فیصلہ! اسٹیٹ بینک کے اہم اقدامات سامنے آ گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی میں یو این ویمن پاکستان نے اسٹیٹ بینک اور دیگر شریک اقوام متحدہ ایجنسیوں کے تعاون سے مالی اور ڈجیٹل شمولیت بطور محفوظ معیشت کی راہ کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطح کی تقریب کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب عالمی 16 روزہ مہم برائے صنف کی بنیاد پر تشدد کے موقع پر منعقد کی گئی۔ پروگرام میں خواتین کو محفوظ مالی اور ڈجیٹل نظام کے ذریعے بااختیار بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈجیٹل ادائیگیاں اور مالی خدمات تب ہی خواتین کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکتی ہیں جب ان کے اعتماد اور تحفظ کی ضمانت موجود ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے محفوظ، شمولیتی اور صنفی لحاظ سے ذمہ دار مالی نظام کو فروغ دینا اسٹیٹ بینک کی اولین ترجیح ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی چیئرپرسن شمشاد اختر نے بھی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالی مارکیٹوں اور اداروں میں خواتین کی شمولیت بڑھانا نہ صرف خواتین کے لیے مواقع پیدا کرتا ہے بلکہ ملک کی اقتصادی ترقی کو بھی مضبوط اور پائیدار بناتا ہے۔

اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر ہانیہ عامر نے آن لائن رویوں کو مثبت بنانے اور نقصان دہ روایات کو چیلنج کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خواتین بلا خوف تعلیم، کام اور اظہارِ خیال میں آزاد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اختیار کے ساتھ حفاظت بھی ضروری ہے، چاہے وہ آن لائن ہو یا آف لائن۔

تقریب میں سینئر حکومتی نمائندے، مالی و کارپوریٹ شعبے کے رہنما، خواتین انٹرپرینورز، اقوام متحدہ کے اہلکار، سول سوسائٹی کے شراکت دار اور نوجوانوں کے حقوق کے علمبردار بھی شریک ہوئے جنہوں نے خواتین اور لڑکیوں کے لیے شمولیتی اور محفوظ ڈجیٹل و مالی ایکو سسٹم کی توسیع کے عزم کی تصدیق کی۔

یو این ویمن پاکستان کی ریجنل ڈائریکٹر کرسٹین عرب نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں کہا کہ مالی اور ڈجیٹل رسائی خواتین کے بنیادی حقوق کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب ہم خواتین کی رازداری، تحفظ اور اقتصادی خودمختاری کے لیے مضبوط نظام بناتے ہیں تو نہ صرف خاندان مضبوط ہوتے ہیں بلکہ معیشتیں بھی پختہ ہوتی ہیں۔ آج ہم اعادہ کرتے ہیں کہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے ڈجیٹل اور مالی شعبوں کو محفوظ، منصفانہ اور مساوی بنانے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔

یو این ویمن پاکستان کے ریاستی نمائندے جمشید قاضی نے اختتامی کلمات میں کہا کہ تمام مالی پلیٹ فارمز، ڈجیٹل خدمات اور سرکاری نظام میں تحفظ کے اقدامات ضروری ہیں۔ حکومت، مالی اداروں، ٹیکنالوجی شعبے، سول سوسائٹی اور کمیونٹیز کی مشترکہ کوششوں سے خواتین کی محفوظ اور بااعتماد ڈجیٹل شمولیت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

تقریب کے اختتام پر شرکا نے پاکستان بھر میں خواتین اور لڑکیوں کیلئے محفوظ ڈجیٹل مقامات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ڈجیٹل عہد کی دیوار پر دستخط کیے۔

Related Posts