مسلم دنیا کا وہ ملک جہاں انوکھا بادشاہی نظام رائج ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو لاس اینجلس ٹائمز

تاجپوشی کی ایک بڑی اور شاندار تقریب میں موٹر سائیکل کی سواری کا شوق رکھنے والے ارب پتی شخص سلطان ابراہیم کو بادشاہت کا تاج پہنایا گیا ہے اور ایک ایسے مسلم ملک میں ہوا ہے جہاں دنیا کا انوکھا بادشاہی نظام قائم ہے۔

جی ہاں یہ ملک ہے جنوب مشرقی ایشیا کا مسلم ملک ملائیشیا، جہاں ہر پانچ سال بعد نیا بادشاہ چنا جاتا ہے۔ کوالالمپور کے نیشنل پیلس میں 65 سالہ سلطان ابراہیم کی تاجپوشی 17ویں بادشاہ کے طور پر ہوئی ہے۔ سلطان ابراہیم نے ماہ جنوری میں بادشاہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔

انوکھا بادشاہی نظام

ملائیشیا میں بادشاہت کا نظام ہے۔ تاہم یہ دنیا میں رائج خاندانی بادشاہتوں کی طرح نہیں ہے، بلکہ ہر پانچ سال بعد ملائیشیا کی 9 ریاستوں کے حکمرانوں کے درمیان تخت تبدیل ہوتا ہے۔ اس کی سربراہی صدیوں پرانی اسلامی رائلٹی کرتی ہے۔

2018 کی انتخابی شکست کے بعد اسکینڈل زدہ وزیر اعظم نجیب رزاق کے بعد تین مرتبہ ایسے مواقع آئے جس میں بادشاہی نظام کی مداخلت ضروری تھی۔

ملائیشیا کا بادشاہ سیاسی تقرریوں کی نگرانی، مسلم اکثریتی ملک کے سربراہ اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے طور پر کام کرتا ہے۔

‘بلومبرگ’ کے مطابق سنگاپور سے تعلق رکھنے والے سلطان ابراہیم اور ان کا خاندان 5.7 بلین ڈالر مالیت کا مالک ہے۔ علاوہ ازیں سنگاپور میں پام آئل، رئیل سٹیٹ اور ٹیلی کمیونیکشن کی صسنعتوں میں سرمایہ کاری بھی کی ہوئی ہے۔

ہفتہ کے روز ہونے والی تقریب میں ملائیشیا کے زیر اعظم انور ابراہیم، برونائی کے سلطان حسن البولقیہ اور بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سمیت کئی اہم افراد نے شرکت کی۔

ملائیشیا کے بادشاہ نے سونے کے دھاگے سے مزین روایتی کوٹ اور شاہی لباس پہنا۔ اپنے عہدے کے حلاف میں سلطان ابراہیم نے ‘دین اسلام کو برقرار رکھنے اور ملائیشیا میں امن کو یقینی بنانے کا عہد کیا۔’

Related Posts