پاکستان میں گزشتہ 3 سال سے ہرسال خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عورت مارچ منعقد کیا جاتا ہے،8 مارچ کو ملک بھر میں خواتین اپنے ساتھ ہونیوالی اانصافیوں اور بدسلوکیوں کیخلاف آواز بلند کرتی ہیں اور معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونیوالی زیادتی کو اجاگر کرتی ہیں۔
2019ء میں عورت مارچ کے دوران میرا جسم میری مرضی اور کھانا خود گرم کرلو کے نعروں نے ملک بھر میں نئی بحث کو جنم دیا لیکن بدقسمتی سے ان نعروں کے پیچھے چھپے اصلی مقصد کو نظر انداز کردیا گیا جبکہ دوسری طرف مردوں نے بڑی تعداد میں خواتین کی حمایت کے لئے گذشتہ سال کے عورت مارچ میں حصہ لیا ۔
امسال بھی 8 مارچ کو عورت مارچ ہونے جارہا ہے ، آیئے گزشتہ 3 سال میں ہونیوالے عورت مارچ کے نعروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ایک شخص نے پلے کارڈ رکھے ہوئے ہے جس پرلکھا ہے کہ ، میں مخالف جنس میں گھرا ہوا ہوں اور میں خود کو محفوظ محسوس کرتا ہوںاورمیں ان کے لئے بھی یہی چاہتا ہوں۔

ایک شخص جس نے عورت مارچ میں حصہ لیا اور انہوں نے اپنے کتبے پر لکھا کہ میں مارچ میں حصہ لے رہا ہوں تاکہ تاکہ مستقبل میں میری بیٹیاں مارچ نہ کریں اور خود کو محفوظ محسوس نہ کریں۔

ایک لڑکی کا نعرہ،لو بیٹھ گئی اب صحیح سے، یہ نعرہ روز مرہ زندگیوں میں لڑکیوں کو اٹھنے بیٹھنے سے متعلق مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔

ایک لڑکی نے نعرہ لگایا کہ میرا جسم آپ کا میدان جنگ نہیں ہے، یہ نعرہ ظاہر کرتاہے کہ اس کے جسم پر صرف اسی کا حق ہے اور کسی کو اس پر حق نہیں ہے۔

یہ کارڈ معاشرے میں منافقت کے اصول کو واضح کرتا ہے جہاں فلموں کوتو خطرہ سمجھا جاتا ہے لیکن عدم رواداری اور دباؤ کو خطرہ نہیں مانا جاتا۔

بنیادی مسائل کو اجاگر کرنے والا کتبہ کہ والدین صرف بیٹوں کو ہی فخر کا باعث کیوں سمجھتے ہیں؟ یہ ایسی چیز ہے جو صنف پر مبنی نہیں ہے۔

یہ کتبہ معاشرے میں چھپی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ شرم و حیا انسان کے لباس میں نہیں بلکہ اس کی سوچ میں ہوتی ہے۔

عورت مارچ میں جبری مذہب تبدیلی اور نوعمر غیر مسلم بچیوں سے زبردستی شادیوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








