مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے وطن واپسی کے لئے اہم رہنماؤں اور قانونی ٹیم سے مشاورت شروع کردی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نومبر میں الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں تاہم وہ مولانا فضل الرحمن کے تحفظات دور کرنے کیلئے ان سے ملاقات کریں گے۔
مولانا فضل الرحمن نے نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان دبئی میں ہونے والے فیصلوں پر اتوار کے روز شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔ یہ ملاقاتیں الیکشن کے حوالے سے ہو رہی تھیں۔
وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے پیر کو تصدیق کی کہ نواز شریف مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کریں گے۔
مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف ان دنوں سعودی عرب میں موجود ہیں، جہاں ان کی اہم شخصیات سے ملاقاتیں جاری ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم کے پاکستان میں اہم پارٹی رہنماوں سے ٹیلی فونک رابطے بھی جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے اپنی وطن واپسی اور آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے قانونی ٹیم سے مشاورت شروع کردی ہے، اور نومبر میں عام انتخابات کا عندیہ دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
پاکستانی نژاد برطانوی صحافی نے سی این این پر مقدمہ دائر کردیا
ذرائع کے مطابق نوازشریف نے پارٹی رہنماؤں اور ٹکٹ ہولڈرزک ا مشترکہ اجلاس بلوانے پر غور شروع کردیا ہے، اور پارٹی کو الیکشن مہم تیزکرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت11 یا 12 اگست کو تحلیل کردی جائے گی، اور مسلم لیگ ن کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم اور انتخابی اتحاد پر اہم فیصلے متوقع ہیں، جب کہ پنجاب میں 30 فیصد نئے چہروں کو میدان میں اتارا جاسکتا ہے، اس حوالے سے ٹکٹس کی تقسیم کا مرحلہ اگست اور ستمبر میں مکمل کیا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ترجمان حافظ حمداللہ کا کہنا ہے کہ دبئی میں کیا گیا فیصلہ پاکستان اور پی ڈی ایم کا فیصلہ نہیں ہوگا۔
نجی ٹی وی اے آر وائی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمد اللہ نے کہا کہ ہمیں اعتراض دبئی میں ہونے والی ملاقات پر نہیں، بلکہ اس سے لاعلم رکھے جانے پر ہے، ہمیں ملاقات کی خبر بھی میڈیا کے ذریعے ملی۔
حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ جے یو آئی پی ڈی ایم کی اہم جماعت ہے، اسے اس طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، نگران سیٹ اپ اور دیگر معاملات پر ہمیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔
ادھر پیر کو اسلام آباد میں خبریں گردش کرتی رہیں کہ نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے کیلئے ان سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم یہ ملاقات لندن میں ہوگی یا دبئی میں یہ ابھی واضح نہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق نواز شریف سعودی عرب سے واپس دبئی پہنچیں گے اور وہیں یہ ملاقات ہوگی جب کہ کچھ دیگر اطلاعات میں کہا گیا کہ نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو لندن بلایا ہے۔
البتہ مریم اورنگزیب کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ یہ ملاقات ہوگی۔
ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف زرداری اسمبلیوں کی مدت میں توسیع نہیں چاہتے اور ان کا مشورہ نواز شریف نے مان لیا ہے تاہم مولانا فضل الرحمان اس پر برہم ہیں۔
گزشتہ روز پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نوازشریف کی دبئی میں ہونے والی ملاقاتوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








